اتوار، 13 ستمبر، 2015

مزدور بچے

0 comments

   ایک  جملہ جو اب معروف نعرہ  بن چکا ہے کہ ''چائلڈ لیبر جرم ہے'' سماجی تنظیموں کا یہ  من  بھاتا  جملہ مجھے بہت عجیب لگتاہے۔  اس  جملے کے تخلیق کاروں کا پیغام اور مقصددونوں  واضح ہے انکے اخلاص پر شک نہیں کیا جا سکتا  مگر اس جملے ک خوش نمائی تلے بےبسی اور لاچاری کی کئی کہانیاں پنہاں    ہیں جن کو نظر انداز کرنا ایک خوفناک غلطی ہوگی جس کا انجام  معاشرے کی یقینی  تباہی ہے۔کوئی با شعور انسان چائلڈ لیبر  کا حامی نہیں ہو سکتا  ۔  یہا ں ایک بات قابل غور ہے کہ چائلڈ لیبر اور جبری مشقت  میں فرق ہے۔  سارے مزدور بچے جبری مشقت کے ضمرے میں نہیں آتے۔مگر ایک ساد ہ سے سوال   کا جواب درکار ہے کہ ہے کہ  یہ مشقت جبری ہو یا دلی آمادگی کے ساتھ بچے آخرمشقت پر آمادہ کیوں ہو جاتے  ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر پیٹ بھرا ہو تو بچوں کو سونے اور کھیلنے کے  علاوہ کچھ نہیں سوجھ سکتا۔ بچوں سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ  بچے فطری طور پر  کھیل کو نیند پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ایسے میں محنت مشقت کا خیال کیوں کر  آ سکتا ہے؟  اس سوال کا جواب جانے بغیر کوئی نتیجہ خیز اور مؤثر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر  چائلڈ لیبر واقعی جرم ہے تو کس کا  اور  اگر قابل تعزیر ہے تو سزا کس کا مقدر ہے ؟  کیا یہ اس بچے کا جرم ہے جواپنے معذور یا مرحوم  باپ   کی ذمہ داری اپنے کمزور کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے؟  جو دکھیاری  ماں کا سہارا بننا چاہتا ہے یا  پھر  اس بچے کاجواپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کی خاطر اپنا بچپن قربان کر چکا ہے یا  یہ اس شخص کا جرم ہے  جس نے اسے کام پر رکھا ہے یا پھر اس نظام کا جس نے اسے زمانے کی ٹھوکریں  کھانے کے لئے بے سہارا چھوڑ دیا۔ جو اس صورتحال کا ذمہ دار ہے وہی سزاوار ہے۔ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے تو اس مسلے کا  حل آسان ہو جائے گا۔
 تاریخ اسلام رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ رات کا آخری پہر ہےخلیفہ وقت  اپنے کاندھے پرراشن اور دیگر  اشیاء ضروریہ کی گھٹری اٹھانے لگتا ہے تو  غلام کہتا ہے کہ میں حاضر ہوں  پھر آپ کیوں سامان اٹھا رہے ہیں مجھے دے دیجیئے، جواب ملا روز قیامت  مجھے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے اس لئے یہ بھی مجھے اٹھانے دو۔  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومت کا رعایا سے متعلق  جو  کردار ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آ رہا ۔ ملک میں اکثر مسائل صرف حکومت وقت کی نا اہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے  پیدا ہوئے ہیں۔ریاست کو  ا س معاملے  پر سنجیدگی دکھانےکی ضرورت ہے۔ ایک عورت امام ابو حنیفہ  کے پاس  اپنے بچے کو پڑھنے کے لئے  چھوڑ جاتی ہے کچھ دنوں بعد بچے کی واپسی کی درخواست کرتی ہے کہ میرا کمانے والا کوئی نہیں  یہ کوئی کام کرے گا تو گزر بسر ہوتی رہے گی۔آپؒ نے انکا وظیفہ مقرر کر دیا  تاکہ بچہ کی  تعلیم کا حرج نہ ہووہی بچہ بڑا ہو کے امام ابو یوسفؒ کے نام سے معروف ہوا۔ یہ تو حکومت  وقت کی کام ہوتا ہے جسے پورا کرنے میں اب تک  کی تمامحکومتیں  پوری طرح ناکام رہی  ہیں۔اب تک نہ جانے کتنے ابو یوسف، امام غزالی ،ابن سینا اور الرازی ہماری حکومتوں کی عدم  توجہ کے باعث کتنے گلی  کوچوں کی دھول بن چکےہیں۔
میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ  معصوم  بچہ کھلونے چھوڑ کر اوزار  کیسےاٹھا لیتا ہے۔ اپنے گھر والوں کی پکار پر دھیان نہ دینے والا   اپنی بے نیازنہ فطرت    سے انحراف کرکے  اپنے "استاد" کی ایک جنبش ابرو  پر کیسے  لپکتاہے۔؟روزانہ صبح اپنےہم عمربچوں کی طرح اسکول جانے   کے بجائے دن بھرکی  جان توڑ  مشقت کے لئے  خود کو کیسے تیار کرتا ہے؟ ۔ کیا ایک بچہ اتنا سمجھدار ہوتا ہے کھیلنے کی عمرمیں  اپنی شرارتوں کو گھر کے آنگن میں دفنا کر گھر بھر کی پوری ذمہ داری  اٹھا لے۔  اپنی مجبوریوں کے بدلے مسکراہٹوں سے دست بردارہونا کوئی کھیل ہے ؟ ننھے  دل میں مچلتی خواہشوں  کو تھپک  تھپک کر سلانا کیا واقع آسان  ہے۔؟  مانا بچوں سے کام لینا جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ انکے کھیلنے کودنے اور پڑھنے کے دن ہوتے   ہیں۔ لیکن جو بچے  بے سہارا  ہیں جن کے کفیل دنیا سے جا چکے، قید ی ہیں ،لاپتہ ہیں یا  والدین  معذور ہیں اوروہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کا کون وارث بنے گا کہ وہ پڑھ سکیں ۔انکے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری کون لے گا؟  ان کو روزآنہ جیب خرچ کون دے گا؟  کون اسکول چھوڑنے جائے گا۔؟ جن کو روٹی کے لالے پڑے ہیں  وہ کیسےپڑھ سکتے ہیں؟یہ ادھورہ قانون انکے ساتھ سنگین مذاق ہے یہ توانکے زخم کھرچنے کے مترادف ہے۔۔
ہمارا مذہب اپنے  ہمسا ئیوں چاہے وہ  غیر مسلم  ہی کیوں نہ ہوں  ان کے  حقوق کا خیال رکھنے کی بھی  تعلیم دیتا ہے اور  رشتے داروں کے  حقوق تو اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اگر ہمسائیوں، رشتے داروں  یا جاننے والوں میں کوئی بے سہارا   بچہ  یا خاندان  ہے تو اسکی کفالت کرنا صاحب حیثیت لوگوں خصوصاً رشتے داروں اور ہمسائیوں  کا  فرض  ہے تاریخ اسلام ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔اس طرح  یہ  ریاست  کی  بھی ذمہ داری ہے ۔کیا ہم لوگ اور حکومت اس  اپنی ذمہ داری  کو پورا کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر اسکا جواب ڈھونڈا جائے تو ہمارے بہت سےانفرادی و اجتماعی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہ  مزدور اور بے سہارا بچے  بھی پڑھیں تو ایسے بچوں اورانکے  خاندانوں کی کفالت کی  پوری ذمہ داری  لینا پڑے گی۔  تعلیم کے نام پہ ویسے بھی کتنا خرچ ہو جاتا ہے،کتنا پیسہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔سرکاری فنڈ  کے خوردبرد کی خبریں روز پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں زکوٰۃ ،  تعلیم  اور سماجی بہبود کے محکماجات کو  آپس  میں کوارڈینیشن کے بعدایک مشترکہ ٹیم بنا کر مستحق خاندانوں اور بچوں کی تعلیمی اور معاشی ضروریات  کے حوالے سے  ملک گیر  سروے کرایا جائے اور  حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں۔ جس پر جلد از جلد غور کر کے کوئی موثر لائحہ عمل بنایا جائے۔ معروف فلاحی تنظیم  اخوت کی طرز پر  ایک تنطیم کھڑی کی جا سکتی ہے جس میں معاشرے کے ایماندار مگر بے روزگار افراد کو بھرتی کیا جائے اور اپنے ہی علاقوں میں ان سے مستحق افراد اور خاندانوں کے کوائف  اکھٹے کرائے جائیں اور انکی امداد کے ذرائع  اور نظام کی شفافیت پر غور و فکر کر کے کوئی لائحہ عمل تیار کی جا سکتا۔ جس کے یقینناً دور رس نتائج نکلیں گےورنہ صرف چائلڈ لیبر کے نام پر  ایسے بچوں کے لئے روزگار پر پابندی لگانے سے حالات مزید خراب ہونگے اور معاشرے میں جرائم خصوصاً  جنسی جرائم کی  کی شرح خطرناک حد تک بڑھ جائے گی۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور مسلہ یہ ہے کہ ان بچوں کے لئےروزی کمانا آسان تھوڑی ہے۔ وہاں بھی  بچوں کو بڑے مسلے درپیش ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر سے کوئی بچہ قریبی دوکان سے کچھ لینے جائے تو مائیں دروازے سے لگی انتظار میں  کھڑی  رہتی ہیں۔ جبکہ وہ بھی تو مائیں ہیں جو اپنے معصوم بچوں کو   صبح صبح کام کے لئے بھیجتی ہیں اورخود سارا دن سولی پہ لٹکی رہتی ہیں کہ پتہ نہیں کیسا کام ہے ، کیسے لوگ ہیں، مارتے تو نہیں ہوں گے۔ کھانا بھی ٹائم سے کھاتا ہوگا کہ نہیں۔آئے روز ٹی وی چینلز پر بچوں کا ذرا ذرا سے نقصان پر مارنے پیٹنے، ہاتھ یا بازو توڑنے، جلانے یا تشدد سے ہلاک کرنے کی  خبریں آتی رہتی ہیں۔ اکثر جنسی تشددکی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ ہم سے اپنے بچوں کو کسی کا ڈانٹنا برداشت نہیں ہوتا۔ مگر یہاں تو ظلم کی نت نئی داستانیں ملتی ہیں۔ جب بھی کوئی ایسی خبر سنتا ہوں تو کئی کئی دن بات  ذہن سے نہیں اترتی  کہیں چوری کے الزام میں بچے کوجان سے مار دیا جاتا ہے۔کیا چوری ہونے والی چیز  اسکی جان سے بھی زیاداہ قیمتی چیز ہو گی ؟  کہیں گندم کے کھیت میں آگ لگانے کے شبے میں زمیندار نے  بچے کو جلا دیتا ہے ۔ ان حالات میں کون معصوم کمانے جا سکتا ہے اور کون  سے والدین بچوں کا ایسی جگہوں پر بھیجنے کے لئے تیار ہو نگے ہیں مگر پھر بھی کام کرنے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے  آخر  کیوں؟ وہی پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر۔ ایک مسلہ کم اجرت بھی ہے جبکہ سارا دن بڑوں کی طرح کام کرنے کے با وجود تھوڑی اجرت ملتی ہے۔کسی دانشور کا قول ہے کہ بھوک دنیا کا سب سے بھیانک سچ، سب سے تلخ حقیقت، سب سے بڑی کمزوری ہے۔
پاکستان  کی آبادی ایک اندازے کے مطابق  انیس کروڑ سے تجاوز کر  چکی ہے۔عالمی ادارہ محنت آئی –ایل-او کے مطابق پاکستان میں  تقریباً نوے لاکھ سے زائد بچے مزوری کرتے ہیں۔تقریباً چالیس لاکھ بچے باقاعدہ کام کاج والی جگہوں پرکام   کرنےجاتے ہیں۔تقریباً چالیس سے پچاس لاکھ بچےگھروں اورکھیتوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ۔ ان بچوں  میں لڑکے 73 فیصد اور لڑکیوں کا تناسب  ستائیس فیصد ہے۔۔ان میں سےاکیاسی فیصد بچے حالات کے ہاتھوں کام کرنے پر  مجبور ہوئے۔ یونیسکو کے مطابق پاکستان میں 70لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے اور اسکول نہ جانے والے بچوں کی اکثریت  شہری علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔حکومت پنجاب نے '' پڑھا لکھا پنجاب'' کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہےجس کے تحت  اسکول پڑھنے کی عمر کے تمام بچوں کو اسکول میں داخل کیا جائے گا اور انہیں کام پہ بھیجنے والے والدین اور کام پر رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔میں ایسے بہت سے گھرانوں کو میں جانتا ہوں جو ان بچوں کی آمدنی سے گزر بسر کر رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہماری آمدنی کا معقول انتظام کر دے یا عورتوں کو گھریلوں سطح پر کام کے مواقع پیداکرے تو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو کام پر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ انکا بھی دل کرتا کہ انکے بچے بھی اسکول جائیں پڑھ لکھ کر  اچھا انسان بنیں اور اچھی زندگی گزاریں۔
میرے ایک ٹیچر دوست بتا رہے تھے انہیں محکمہ تعلیم کی جانب سے  گھر گھر جا کر اسکول نہ جانے والے  بچوں کو داخل کرنے اور انہیں اسکول لانے کے احکامات ملے تو  وہ اسی سلسلے میں اپنے متعلقہ علاقے میں اہل علاقہ  سے ملنے گئے تو ایک آدمی  نے دو ٹوک  بات کی کہ ماسٹر جی  ہمارے ساتھ پیٹ بھی لگا ہوا ہے۔میں معذور ہوں  میرے دو بچےایک ہوٹل پہ کام کرتے ہیں ہیں دونوں چھ چھ ہزار لاتے ہیں دو ٹائم کھانا بھی ملتا ہے شام کو دودھ بھی  لاتے ہیں۔ آپ بارہ ہزار اورایک کلو دودھ دے دیا کریں دونوں بچے کل سے اسکول آ جایا کریں گے۔میرے دوست  نے کہا کہ اب گورنمنٹ نے سختی کر دی ہے عمل نہ کرنے پر جیل بھی ہو سکتی ہے تو جواب ملاکہ  گورنمنٹ کیا ہمیں کھانے کو دیتی ہے؟ اور جو لوگ پڑھ لکھ کر نوکری کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں  پہلے انکا کوئی  انتظام کیجئے۔ اس آدمی کے یہ جملے قابل غور و فکر ہیں۔یہاں یہ بات سوچنے لائق ہے  کہ کیا لوگوں کے لئے روزگار کی فراہمی میں حکومت کا بھی کوئی کردار ہوتا ہے۔برطانیہ میں حکومت  بے سہارا بچوں، معذورافراد   اور بوڑھے لوگوں کوبہت سی سہولیات فراہم کرتی  ہے۔  مستحق طالبعلموں کو ہفتہ وار وظیفہ دیتی ہے جس سے انکا اچھا خاصا گذارا ہو جاتا ہے۔ اسکے علاوہ بیروزگار لوگوں کو اس  وقت تک وظیفہ ملتا ہے  جب تک ان کو معقول نوکری نہیں مل جاتی۔کم و بیش یہی قانون یورپ کے تمام ممالک میں رائج ہے۔ مگر پاکستان کی صورتحال  مختلف ہے یہاں مراعات یافتہ  دن بدن  ترقی  امیر ہوتا جا رہا ہے مگر غریب آدمی ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی  دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔  یہ "مزدور  بچے" اسی تلخ حقیقت کے غماز ہیں۔

http://naqshefaryadi.blogspot.com

جمعرات، 14 مئی، 2015

محسن نقوی۔۔

0 comments


لوح قرطاس نہ پھر دست قلم کار  جُدا
ہر کہانی کے مگر ہوتے ہیں کردار  جُدا ۔۔

دل بدل جائیں تو رستے بھی بدل جاتے ہیں
در جدا ہوں تو اٹھا لیتے ہیں دیوار  جُدا ۔۔

    سازیشیں   لاکھ کریں دشمن لیکن
کر پائے گا کبھی مجھ سے میرا یار  جُدا ۔۔

اشک آنکھوں میں لئے ڈھونڈ رہے ہیں ہم کو
میرے غم خوار الگ، تیرے طلب گار  جُدا ۔۔

وادی ء عشق میں ہے کیا خوب تماشا محسن۔
     لذت ہجر  جدا،  وسل کے آزار  جُدا ۔۔۔



منگل، 12 مئی، 2015

''کولمبس'' انسانی تاریخ کاایک سیاہ باب

0 comments
 تحریر: سید عاصم علی شاہ

عام طور پر   لوگ کرسٹوفر کولمبس کو ایک سیاح کے طور پر جانتے ہیں۔ ہم نے بھی ساتویں یا آٹھویں کی معاشرتی علوم میں کولمبس کے بارے میں یہی پڑھاتھا۔ انکا  مشہور کارنامہ امریکہ کی دریافت ہے اور یہی انکی اصل وجہ شہرت ہے ۔ بعد میں بھی ہمیشہ اخبارات اور رسائل میں کولمبس کی تعریف ہی پڑھی۔  کچھ عرصہ قبلموصوف کے بارے میں کچھ ایسےچشم کشا انکشافات پڑھنے کو ملے  جس سے سخت حیرانی ہوئی، پھر اسکی تحقیق میں جت گئے۔ کافی جدو جہد کے بعدایسا معلوماتیمواد میسر آیا جس سے حقائق واضح ہوئے۔ کولمبس  تیس اکتوبر 1451 میں ریپبلک آف جنوا( اٹلی) میں پیدا ہوا۔ سلطنت ہسپانیہ کا تنخواہ دار ملازم رہا۔ وہ ایک تجربہ کار سپاہی اور مہم جو جہاز ران تھا۔   مگر ایک سیاح کے طور پر  زیادہ معروف ہوا۔ وہ اختیارات،دولت اور دربار 
تک رسائی کا ہمیشہ متمنی رہا۔اس مقصد کے لئے وہ نت نئے منصوبے سوچتا رہتا تھا۔ یہی چیز  اسے نئے ممالک کی کھوج  اور دریافت   پر اکساتی تھی۔
  
 12اکتوبر  1492 ء میں کولمبس  نئے سمندری راستے سے مشہور منگول بادشاہ قبلائی خان کی سلطنت کی تلاش میں نکلا۔  اسکا اندازہ تھا کہ میں اس سمندری راستے پر مشرق کی طرف سفر کرتے ہوئے منگول سلطنت تک پہنچ جاؤں گا ۔مگر وہ  قبلائی خان کے ''چین یاسی پانگو'' (جاپان) کے بجائے شمالی امریکہ کے جزائر  بہا ماس یعنی جزائر غرب الہند کی طرف آ نکلا۔ اور وہ ساری زندگی کیوبا، جمیکا، بہاماس کو قبلائی خان کی سلطنت کے علاقے سمجھتا رہا۔ کولمبس ان جزائر میں سب سے پہلے ''گوانا ہانی'' موجودہ ڈومنیکن ری پبلک اور ہیٹی کے علاقے میں اترا۔اسی نے  ''گوانا ہانی'' اور اس کے قرب جوار کے جزائر کو ہسپانوی نام '' سان سالو یڈور'' دیا۔ جیسے جیسے اس کا جہاز زمین کے قریب آ رہا تھا اسکی حیرت بڑھتی جا رہی تھی ، ایک نئی، خوبصورت اور سر سبز دنیا اسکے سامنے تھی۔یہاں اتر کر کولمبس  کو جو پہلی  منفرد چیز نظر آئی وہ وہاں کے مقامی باشندے آرواک قبائل کے ریڈ انڈین  یعنی سرخ ہندی  باشندے تھے۔

 جن کے بارے میں کولمبس خود اپنے روزنامچے میں  لکھتا ہے:۔

''وہ ہمارے لئے رنگ برنگے پرندے، روئی کے گٹھے، کمانیں اور دوسری اشیا لے کر آئے  اور بدلے میں ہم سے بیلوں کی گردن میں ڈالنے کی گھنٹیاں اور شیشے کی لڑیاں لے گئے۔ یہ لوگ اشیا کے بدلے اشیا کے تبادلے پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کے جسم مضبوط اور صحت مند ہیں۔ یہ لوگ سادہ اور جفا کش  اور بے ضرر نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں کو نہ تو ہتھیار روں کے استعمال کا علم ہے نہ ہی کسی ہتھیار سے مسلح ہوتے ہیں۔ جب میں نے انہیں اپنی تلوار دکھائی تو بیشتر نے  اپنی انگلیوں اور ہاتھوں کو تیز دھار تلوار سے زخمی کر لیا۔ یہاں ابھی تک لوہے کا استعمال شروع نہیں ہوا ہے۔ ان کے تیر اور کمان لکڑی، گنے اور بانس سے بنے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ بہترین خدمت گار اور اچھے غلام ثابت ہونگے۔ ہم صرف پچاس لوگوں کی مدد سے تمام آبادی پر غلبہ پا سکتے ہیں۔''
یہ سطریں اس روزنامچے کا حصہ ہیں جو کولمبس اپنے اس سفر کےاہم واقعات  کی یادداشت اور ملکہ کو رپورٹ دینے کی خاطر لکھتا تھا۔ان چند الفاظ نے اس داستان خونچکاں کی بنیاد رکھی جو پانچ صدیوں پر محیط ہے۔  اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ریڈ انڈین  پر امن لوگ  ، بے ضرر اور کشادہ دل لوگ تھے۔ بظاہر یہ انکی تعریف ہی تھی مگر ا ن الفاظ نے انکی قسمت پر بد نصیبی کی مہر لگا دی ۔اس تحریر  نے ریڈ انڈین کے ساتھ جو کچھ کیا با لکل ویسا ہی  نوم چومسکی کے تعریفی کالم کے بعد عافیہ صدیقی کے ساتھ ہوا کیونکہ ماضی اور حال کے  غارت گر ان دونوں تحریروں کا مطلب خوب سمجھتے تھے۔

کچھ ماہ وہاں رہنے کے  بعد 15 مارچ 1493ء کو کولمبس واپس اسپین پہنچا تو اس کا رائل ایڈمرل کے طور پر استقبال کیا گیا۔ وہ سونے  اور چاندی کی ڈلیاں، مکئی،  طرح طرح کے پرندے،تمباکو اور دس بد نصیب ریڈ انڈین غلام ساتھ لایا ۔ کل تک جو شخص ملکہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا آج ملکہ اور بادشاہ کے ساتھ شاہی محل میں  بیٹھا انواع و اقسام کے کھانے کھا رہا تھا اور اسے مصا حب خاص کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس موقع پر کولمبس نے ایک تحریری رپورٹ ملکہ کی خدمت میں پیش کی جسے سرکاری دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ 

کولمبس  اپنی رپورٹ میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ:۔

'' ریڈ انڈین اپنے دفاع کے قابل نہیں، انکے رسم و رواج میں ذاتی ملکیت کا تصور نا پید ہے۔ ان سے کچھ بھی طلب کیا جائے وہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے زمین اور وسائل کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ  استعمال اور ملکیت کا قانون رائج ہے جبکہ استعمال کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔ موت اور نقل مکانی کی صورت میں نئے استعمال کرنے والے آ جاتے ہیں لیکن متعلقہ لواحقین کسی اثاثے  پر خاندانی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتے۔ اگر بادشاہ  اور ملکہ میری مدد کریں تو اتنا سونا لا دوں کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو اور اتنے غلام  لا دوں کہ جتنے کا حکم دیا جائے گا''۔۔

اپنی چکنی چوپڑی باتوں ،سفر کے انوکھے  واقعات ، اور ریڈ انڈین  اور انکے علاقےسے متعلق معلومات سے لبریز گفتگو نے اپنا اثر دکھایا اور  اس نے ملکہ کو راضی کر لیا کہ وہ دوبارہ اس سفر پر جانا چاہتا ہے لہٰذا اگر ملکہ اور بادشاہ اس مہم کے اخراجات کا ذمہ لے لیں تو کئی گنا دولت لا کر انکے قدموں میں ڈھیر کر دےگا۔  یوں 25دسمبر 1493 کو  کولمبس شمالی امریکہ کی طرف اپنے دوسرے سفر پر روانہ ہوا تو یہ اس کی زندگی کا نقطہ عروج تھا۔ بحیثیت رائل ایڈمرل  اس کی کمان میں سترہ جہاز دئے گئے  جن میں بارہ سو افراد بھرے ہوئے تھے  جن میں  ایک سےبڑھ کر  ایک جہاں دیدہ جنگجو، ماہر تلوار باز، تجربہ کار تیر انداز گھوڑے، مال مویشی، بکریاں، کتے، سور، مرغیاں، اناج، بیج، عمارتی سامان، اور اسلحہ بھرا ہوا تھا۔ اگر اس قافلے اور اسکے ساتھ جانے والے سامان کا جائزہ لیا جائے تو آسانی سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ   قبضے ، لوٹ مار   اور مستقل رہائش کے مقصدسے  جا رہے تھے ۔ ان جانے والوں لوگوں میں اکثریت خطر ناک  جرائم پیشہ افراد کی تھی ۔ اس طرح اس مہم سے  ملکہ ازابیلا  نے دوہرا فائدا اٹھایا ایک تو جرائم پیشہ لوگوں سے جان چھوٹ گئی  دوسرا ریڈ انڈینز کے علاقوں پر قبضہ بھی ہو گیا۔

جب  کولمبس اس جگہ پہنچا تو اسے مقامی لاگ نظر نہ آئے۔ ریڈ انڈینز کے رہائشی جھونپڑے جلے ہوئے تھے اورانکی کٹی پھٹی لاشیں  جا بہ جا بکھری ہوئی تھی۔ ان لوگوں کی اکثریت اس کے آدمیوں کے ہاتھوں ماری جا چکی تھی جن کو کولمبس  آبادکاری کے غرض سے وہاں چھوڑ گیا تھا۔ پھر یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ  صدیوں تک چلتا رہا۔جہاں جہاں یہ پہنچے ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم کرتے گئے۔ 1494 ء سے 1508 ء تک یعنی پندرہ سال کے عرصے میں  صرف جزائر غرب الہند میں چالیس لاکھ سے زیادہ ریڈ انڈینز قتل کئے گئے اور باقی مقبوضہ  علاقوں کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔۔

مشہور مورخ ہاورڈزین لکھتا ہے:۔

'' بہاماس کے ساحل پر جب کولمبس کا جہاز لنگر انداز ہوا تو اس ساحلی علاقے میں تیانو اور آرواک قبائل آباد سے۔ جو ریڈ انڈینز کے بڑے قبیلے شمار ہوتے تھے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان قبائل کے افراد نا پید ہو گئے۔وہ پا بہ زنجیر ہوئے اور غلام بنا کر اسپین کی طرف روانہ کر دئے  گئے یا قتل ہو گئے۔ ہسپانوی آبادکاروں کے ہاتھوں بہاماس اور ہیٹی کے جزائر کے ایک لاکھ سے زیادہ آرواک انڈینز تہہ تیغ کئے گئے۔ کولمبس کے لشکری ایک کے بعد ایک جزیرے میں تلواریں لہراتے ہوئے جاتے ، عورتوں کی آبروریزی کرتے ،بچوں اور بوڑھوں کو کو قتل کرتے اور جوانوں کو زنجیر یریں پہنا کر ساتھ لے جاتے، جو مزاہمت کرتا قتل ہو جاتا۔
 چونکہ ہسپانوی حملہ آور لٹیروں کی قتل و غارت اور ریڈ انڈینز کی مدافعت کا آپس میں کوئی جوڑ ، کوئی مقابلہ تھا ہی نہیں اس لئے نہتے ریڈ انڈین قتل ہوتے گئے ۔سالوں تک انہیں یہ ہی سمجھ نہ آیا کہ اس ناگہانی  مصیبت سے کیسے بچا جائے۔صدیوں تک امن و امان ،سکون اور مل جل کرساتھ رہنے والے لوگوں کے لئے یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔  جن لوگوں کے جانوروں کا شکار کرنے کے لئے ڈھنگ کے ہتھیار نہ  ہوں وہ بھلا جلاد صفت انسانوں سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔انہیں نہ  تلوار، تیر اور بھالے کے بنانے اور استعمال کا پتہ تھا نہ گھڑ سواری سے آ گاہی تھی حتیٰ کہ حملہ آوروں کی  زبان سے بھی  ناآشناتھے۔ کریں تو کیا کریں کہیں تو کس سے کہیں؟

کولمبس کے ساتھ جانے والا عیسائی مبلغ لاکس کیسس لکھتا ہے کہ :۔

''ہسپانوی آبادکاروں نے اجتما عی پھانسیوں کا طریقہ کار جاری کیا جبکہ بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو اپنے کتوں کے سامنے بطور خوراک ڈال دیا جاتا تھا۔ نوجوان عورتوں کی اکثریت اس وقت تک جنسی تشدد کا شکار رہتی جب تک مر نہ جاتی۔گھروں کو آگ لگا دی جاتی اور ریوڑ کی صورت میں بھاگتے غیر مسلح اور نا قابل دفاع لوگوں کا تیز رفتار گھوڑون سے تعاقب کیا جاتا اور انہیں تیر اندازی کی مشق کے لئے استعمال کیا جاتا۔ یوں چند ہی گھنٹوں میں شہر کا شہر زندگی سے عاری ہو جاتا اور ہسپانوی انکی وسیع زمینوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔

کیا خوب ہے کہ جمہوریت آزادی، برابری، انصاف، انسانی حقوق کےعلم بردار  اسی امریکہ  میں جسے کولمبس نے دریافت کیا تھا  1965تک ریڈ انڈینز اور کالے امریکیوں کو  ان حقوق سے محروم رکھا گیا۔  تقریباً یہی حال آسٹریلیا میں مقامی لوگوں کا کیا گیا۔یہی طریقہ کار افریقہ میں اپنایا گیا۔اگر حملہ آور مختلف قومیں تھی مگر ظلم، وحشت اور بربریت   کی داستانیں ایک ہی جیسی ہیں۔   ملکہ ازابیلا ، کولمبس  اور ہسپانوی درندوں کی خون آشام روحیں آج بھی  استعمار کی صورت میں ساری دنیا میں دندناتی پھر رہی ہیں۔ آج  امریکہ کے طول عرض میں کولمبس کی یاد میں ایک سو پانچ مجسمے،  ایک سو چالیس سے زائد  کتبے  اور پانچ سو سے زائد ستائشی  سلیں آویزاں ہیں۔  صرف یہی  نہیں اسکی یادگاروں کا  یہ سلسلہ اسپین ، اٹلی،  جزائر غرب الہند، لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ کئی جگہوں پر ملکہ ازابیلا کے مجسمے بھی نصب ہیں جس کے ہاتھ لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ جس کی بد عہدی شکلیں بدل بدل کر مظلوموں کا پیچھا کرتی ہوئی غرناطہ سے دشت لیلیٰ تک آ گئی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آج کااستعمار اپنے محسنوں کو بھولا ہے نہ انکے کارناموں کو۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر  آج تک یہ مشق ستم جاری ہے۔

جمعرات، 7 مئی، 2015

کچھ یادگار لمحات کا ذکر۔۔

0 comments
کچھ یادگار لمحات کا ذکر۔۔

ہوم ڈیپارٹمنٹ  معہ عملہ سالانہ چھٹیوں پر سسرال نگر میں ہےباالفاظ دیگر میرے میکے میں۔۔

چند دنوں کے یہ کئی ہزار  پرسکون لمحات کسی یادگار سے کم نہیں (اگر نصیب دشمناں یہ پوسٹ یا اسکے مندرجات مذکورہ بالا محکمہ جاتی سربراہ تک نہ پہنچے تو) ۔۔

کسل مندی  اور تھکاوٹ کے سالوں پرانے اثرات دھل گئے۔ کئی لاحق بیماریاں تو جڑ سے ہی ختم ہو گئیں ۔۔

 مہینوں سے زیر التوا نیندوں کی قضا ادا کی، بھولی بسری کروٹوں کے نئے نئے  زاوئیے دریافت کیے۔۔

زیر مطالعہ  کتابوں کی بوسیدہ نشانیاں جو ہمارے شوق مطالعہ کی گواہ ہیں تھیں انہیں قید سے نجات دی۔۔

اپنی ڈائری کی گرد جھاڑی، اور حیرانی سے اپنے ''تخلیقات'' پڑھتے رہے کہ ''آتش کبھی جوان تھا''۔۔

زیر مطالعہ تحریر  ابھی زیر تکمیل تھی کہ حکام بالا کا فون آ گیا۔

سلام دعا کے بعد حال  سے پہلےچال کامعہ طول و عرض بلد  پوچھا گیا۔

پھر صحت اور  نیت کا یکے بعد دیگرے  معلوم کیا گیا۔ اول الذکر کے جواب میں ٹھیک ہے  کہا گیااور موخر االذکر کا معاملہ   اللہ پر چھوڑ دیا گیا۔

مقصدمحض عاجزی کا  اظہار تھا۔ مگر اس جملہ معترضہ پر گرفت کی گئی اور باقی کی کاروائی اور جواب طلبی  تعطیلات کے اختتام تک موخر کر دی گئی۔۔
اب ہم ہاتھ میں تسبیح پکڑے کام پر جاتے ہیں۔۔

سید عاصم علی شاہ۔۔


میرے بلاگ ‘’نقش فریادی'' کے  وزٹ کے لئے کلک کریں ۔۔


اور ''نقش فریادی'' کے فیس بک پیج کے لئے۔۔









اتوار، 3 مئی، 2015

بخشو'' کے تخلیق کاروں سے چند گزارشات۔۔

0 comments


تحریر: سید عاصم علی شاہ

وسعت اللہ خان معروف کالم نگار اور قلم کار ہیں ہم جیسے ''قلم مار'' انکے آگے کیا بیجتے ہیں۔ خان صاحب  کالم پہلی بارروزنامہ ایکسپریس میں پڑھا  جو انکا بھی
 ایکسپریس میں پہلا کالم تھا۔ مگر چند کالم پڑھ کر محسوس ہوا کہ ان کے کالم''ا سپانسرڈ ''سے  لگتے ہیں پھر بی۔بی۔سی  جیسے  ادارے سے انکی وابستگی ہمارے اس شک  مزید پختہ کرتی ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس  نے 1965 ء کی جنگ میں لاہور پر ہندوستان کے قبضے کی خبر نشر کر کے پاکستانی عوام اور فوج دونوں میں بد دلی  اور مایوسی پیدا  کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ چند روز قبل خان صاحب کا کالم'' بخشو سب کا مگر بخشو کا کوئی نہیں'' پڑھا تو سر پر سے گزر گیا۔  بار دیگر پڑھا، ایک  دو مرتبہ اور پڑھا    مگر بات عقل کو نہ لگی ۔ میری سمجھ میں نہ آ سکا کہ یہ کسی حرماں نصیب کی داستان ہے یا کسی کف ''ہنر فروش'' کا قصہ ،کسی بخشو،جیدے یا چھوٹے  کی سادگی یا مجبوریوں کا بیانیہ   ہے یا سفید جُبے والوں کی مہربانیوں یا  پھر من مانیوں کی''شکایات خونچکاں ''ہے۔لیکن جب معروف چینلز پر بخشو کا کارٹون دیکھا اور محترم اعتزاز احسن   سے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران  بخشو کا ذکر سن کراتنی تو  بات سمجھ میں آئی کہ  یہ ضرور کوئی اہم بات ہے جو ہماری  ناقص عقل  میں آنے سے گریزاں ہے۔
ہم نے  اپنے محلے کے ایک ''دانشور'' سے وقت لے لیاکہ آخر  دانشو تو دانشور ہوتا ہے چاہے  کسی چینل کا ہو یا گاؤں دیہات کا۔ ہم نے جاتے ہی سوال پوچھ لیا کہ جناب یہ بخشو کون ہے  کہ جس کا ذکر پارلیمنٹ میں بھی ہو رہا ہےاورٹی وی پروگراموں  میں بھی۔ ان صاحب نے بلا تعامل  چائے   منگوائی۔صورتحال کی نزاکت اور  چائے  دونوں کا خیال کرتے ہوئے ہم سنجیدہ ہو کر بیٹھ گئے-  وہ گویا ہوئے کہ 1948  ء میں اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم  ڈیوڈ بن گوریان نے اپنی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے  ایک  سالہ بلونگڑے  کا اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا تو ساری دنیا حیران رہ گئی وہ  یک سالہ دشمن کوئی اور نہیں ہمارا پیارا  پاکستان تھا جو ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا اور یہی نظریہ تھا جسے کی بنیاد پر اسرائیل نے ہمیں دشمن قرار دینے میں پہل کی ۔ یہودی چالاکی اور دوراندیشی کے قائل   استعمار ی پیادوں کو یہ بات آسانی سے ہضم تو نہیں ہوگی پھر بھی یہ  بتاتا چلوں کہ خیر و شر کے آخری معرکے میں مملکت خداد  کی سرزمین اور مجاہدوں کا اہم رول ہوگا۔ حضرت بری امامؒ نے   اس جگہ جہاں اب اسلام آباد موجودہ  ہے کے بارے میں فرمایا تھا کہ  یہاں  ایک شہر آباد ہوگا جہاں دنیا بھر کے  اہم فیصلے ہوا کریں گے۔
پھر فرمانے لگے کہ جس طرح  ایک شیرخوار کو دودھ  کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی ایک نوزائیدہ مملکت چلانے کے لئے  جن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ موجود ہی نہ تھے جب پاکستان بنا تو  ہندوستان  نے  پاکستان کے حصے میں آنے والے اثاثے ادا نہیں کیئے اور ہمیں صفرسے  اپنا سفر شروع کرنا پڑا۔ تفصیل کا وقت نہیں مگر اتنا بتا دوں کہ لیاقت علی خان سمیت ہر بندہ اپنا کھانا گھر سے  ٹفن میں لاتا تھا  پہلے وزیراعظم  آفس کی میزیں  اینٹیں جوڑ کر اور  اس پر کپڑا ڈال کر بنائی گئی تھیں۔1948 ء میں ہی اسی فقر فاقہ کی حالت میں بھارت نے ہم پر جنگ مسلط کر دی اور کشمیر پر قبضہ کر لیا۔  پاک فوج کے انگریز جنرل کے بھارت پر جوابی حملے سے  انکار کے بعد دل ناتواں  سے جو ہو سکا کیا  انڈونیشیا کی تحریک آزادی کے لئے چھ سو سے زائد رضاکاروں کو بھجوانے والے قائد اعظم نے پٹھانوں کو حکم دیا انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ مل کر موجودہ آزاد کشمیر   کا علاقہ واپس لے لیا۔ آزادی کے صرف اٹھارہ سال بعد 1965  ء میں ایک بار پھر بھارت رات کی تاریکی میں حملہ آور ہوا - نا مساعد حالات کے باوجود  پاکستان نے مقابلہ کیا عرب ممالک، شاہ ایران  اور انڈونیشیا نے کھل کر  پاکستا ن کی مدد کی اور پاکستان نے بھارتیوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے جس عمر میں وطن عزیز میں شناختی کارڈنہیں بنتا  ااس عمر میں  پاک سرزمین نے بھارت کو اپنی شناخت  اچھی طرح کروا دی۔
مگر صرف چھے سال بعد ہی ہمیں  دو قومی نظریے کےخلیج بنگال میں ڈوبنے کا طعنہ سنناپڑا۔جغرافیائی دوری ، عادتوں اور نیّتوں کے فرق کے ساتھ ساتھ  دشمنوں کی ہوشیاری کے باعث ہم اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے۔ادھر سویت یونین  سردی سے سکڑے سمٹے اژدھے کی  طرح گرم پانیوں کی  طرف پھن اٹھائے پھنکار رہا تھا۔ بھٹو جیسے جہاندیدہ سیاستدان نے  اس کے من کی بھانپ لی اور  افغانیوں کے کان میں پھونک  دیا کہ رشیا کسی بھی وقت افغانستان میں آ  دھمکے گا لہٰذا تیاری کر لی جائے۔  رشیا  افغانستان آیا  اور چھا گیا  اسکا اگلا قدم پاکستان میں پڑنے والا تھا۔ بھارت تو چاہتا ہی یہی تھا وہ بھی  بھوکے گیدڑ کی طرح گھات میں بیٹھ گیا ، ادھر ایرانی انقلاب پاکستانی سرحد پر ہچکولے لے رہا تھا یہ  وطن عزیز کی تاریخ کا مشکل ترین وقت تھا۔ پاکستان  بیک وقت  ان  سارے خطرات سے  بھی نمٹا  بلکہ مجاہدین کی مدد سے  رشیا کو بھی ٹکڑے ٹکڑے  کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا جس سے  وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مشرقی یورپ بھی آزاد ہو گیا۔ اصو لاً آزاد ہونےے والی ان ساری ریاستوں کو پاکستان کا شکر گزار ہونے چاہئے۔
اس سارے عمل میں مسلم ممالک خصوساً عرب ممالک  نے کھل کر پاکستان کی مدد کی، امریکہ اور دوسرے روس دشمن ملکوں کو اس جنگ میں لے کر آنا پاکستان کی حکمت عملی  تھی  ۔افغان جہاد کو امریکی جنگ  کہنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ  اگر امریکہ اور روس دوست ہوتے تو امریکہ کبھی اس جنگ میں مجبوراً حصہ نہ ڈالتا جیسے وہ 1971 ء  میں نہیں آسکاتھا اور سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ اس دوران پاکستان نے نہ صرف اپنے افغان بھائیوں کی مدد بلکہ پچاس لاکھ افغان باشندوں کو اپنے ملک میں پناہ دی اور انہیں پورے ملک میں رہائش اور روزگار کی آزادی دی۔بہر حال اس دوران ہم نے نہ صرف ایٹم بم بنا لیا بلکہ ایک شاندار میزائل پروگرام بھی کھڑا کر لیا اس مقصد کے لئے عربوں نے خصوصاً سعودی عرب نے  اپنے خزانوں کے منہ کھول دئیے۔ اس   عمل میں عربوں  کی امداد کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ہمارے  منصوبہ سازوں اور افرادی قوت کے علاوہ  باقی سب عربوں کا فراہم کردہ تھا۔  
ادھر  سالوں کے خون خرابے کے بعد افغانستان میں طالبان کا کنٹرو ل ہو گیااور وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہو گئی جس نے  مثالی امن قائم کر کے قرون اولٰی کی یاد تازہ کر دی۔  پاکستان کے تمام مکاتب فکر حتیٰ کہ مولانا شاہ احمد نورانی ؒ  اور حافظ سعید صاحب  مسلکی اختلاف کے باوجود طالبان کے حامی تھے۔ سارے اسلامی ملکوں کا اس طرف رجحان دیکھ کر اہل مغرب کی ''کھٹیا'' کھڑی ہو گئی۔ انہیں   لگا کہ دجالی ٹولے کے''حزب اختلاف'' کا بیس کیمپ وجود میں آ چکا ہے۔ لٰہذا اپنے ''ٹوین ٹاورز'' کی قربانی دے کر  اسلامی دنیا کے دو اہم ممالک افغانستان اور عراق  ملیا میٹ کر دئیے گئے اور ''آفٹر شاکس ''کا سلسلہ گاہے بگاہے  ابھی تک جاری ہے۔اس جنگ میں افغانستان اور عراق کا جو نقصان ہوا سو ہوا مگر پاکستان کا بھی بیڑا غرق ہو گیا۔یہ ملک امن و  امان کوترس گیا زندگی لوگوں کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئی پچاس ہزار سے زائد لوگ دہشت گردی کی بھینٹ چڑ ھ گئے۔ مگر اب وقت بدل رہا ہے ۔ خیر سے ''انکل سام'' بھی افغانستان میں ویسی ہی حالت کو پہنچ چکا ہے جیسی کہ  ربع صدی قبل رشین فیڈریشن کی ہو گئی تھی۔ساتھ ہی وطن عزیز  کے طول عرض میں دھما چوکڑی مچانے والے استعمار ی گماشتے بھی  اپنے انجام  کو پہنچنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ افغانستان کے بدلتے حالات اور وطن عزیز میں  پھیلنے والی امن و سکون  کی لہر '' یار لوگوں'' کی طبع نازک پر گراں گزر رہی ہوگی۔
آزادی سے لے کر اب تک اگر ہم اپنی  حالات، مشکلات  اور وسائل کی کمی کا جائزہ لیں اور اپنی کامیا بیو ں  پر بھی نظر ڈال لیں ۔ اپنے دشمنوں کی تعداد گن لیں اور دوستوں کو بھی شمار کر لیں۔ بنگال سے لے کر کوئٹہ تک اس قوم کے شہدا کے خون کے قطروں کا بھی حساب کر لیں۔۔ 47 ء کےمہاجروں سے لے کر وزیرستان کے آئی –ڈی –پیز کی نکل مکانی   تک انکی بے سروسامانی  اور غریب الوطنی کا احساس کر لیں۔ اینٹوں کی میز سے لے کر موجودہ پارلیمنٹ کی شاندار بلڈنگ تک کی تاریخ کا جائزہ لے  لیں ۔ قائد اعظم کی تقریب حلف برداری میں استعمال ہونے  والی  نواب صادق خان عباسی کی گاڑی سے شروع ہو کر موجودہ وزیر اعظم کے گاڑیوں کے قافلے  تک کو دیکھ لیں۔ قدرت اللہ شہاب سے لے کر وسعت اللہ خان تک حرمت قلم  کے  سوداگروں اور شہیدوں کی داستان پڑھ لیں۔ جنرل گریسی سے لے کر جنرل راحیل تک سپاہ کے کارناموں اور کالی بھیڑوں کا تذکرہ  اٹھا دیکھیں۔ توڑے دار بندوقوں سے لے کر  واہ فیکٹری اور ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا  تک کا فاصلہ ناپ لیں۔

اگر ذرا سا ایمان رکھنے والے ان چیزوں کا جائزہ لیں  تو مجھے یقین ہے کہ کوئی شخص اس قوم کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہیں  گا۔ اسکی قربانیوں  اور کامیابیوں سے انکار نہیں کرے گا۔کوئی اس کے چند غداروں کی بنیاد پر ساری قوم کو مطعون نہیں کرے گا۔اتنی سخت حالات اور محدود وسائل کے ساتھ اس مقام تک پہنچنے والی قوم اور ملک کو بخشو، بھکاری یا بکاؤ مال قرار  نہیں دے گا ، عیاش حکمرانوں،  اسٹیبلشمنٹ  کے کرپٹ  عناصر ، نا اہل اور بے ضمیر اہلکاروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس بنیاد پر  اپنے خون پسینے سے اس ملک کی آبیاری کرنے والے صاف دامن سیاستدانوں، ایمان دار افسروں، فوج اور عام آدمیوں کی قربانیوں کو بھی بھلایا نہیں  جا سکتا۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا، ایران، افغانستان ،روس  جیسے ہمسائے اگر کسی اور ملک کے ہوتے تو وہ بیس سال بھی مشکل سے چلتا۔ مگر اللہ کے فضل و کرم سے آپ ﷺ کی برکت سے بزرگوں کی دعاؤں  اور مسلم امہ کی امیدوں کے باعث  پاکستان قائم و دائم ہے اور رہے گا۔ لٰہذا بخشو جیسے کردار تراشنے والے اپنے بغض و عناد کے اظہار کا کوئی  اور مناسب طریقہ دریافت کر لیں۔  

جمعہ، 1 مئی، 2015

عالمی یوم مزدور

0 comments

آج ساری دنیا میں سرکاری سطح پر مزدوروں کا عالمی دن منایا گیا، این-جی-اوز اور دیگر سماجی تنظیموں نے تقاریب اور ریلیوں کا انعقاد کیا۔ ٹی-وی چینلز 
اور اخبارات نے خصوصی  ایڈیشن  شائع کیے۔ اور مزدور آج بھی حسب معمول مزدوری کی تلاش میں سرگرداں رہے۔۔۔


جمعرات، 30 اپریل، 2015

پکڑے جاتے ہیں''بلاگرز '' کے لکھے پہ ناحق

0 comments



چندروز قبل ایک ''بلاگستانی''بزرگ کو خواب میں دکھایا گیا کہ جو لوگ خود بلاگ لکھتے ہیں مگر دوسروں کے لکھے گئے بلاگ نہیں پڑھتے  تو روز قیامت نظر انداز کیے گئے تمام بلاگ لوہے کی بھاری تختیوں پہ لکھ کر انکے گلے میں ڈالے جائیں گے۔پھر وہ اونچی آواز میں لوگوں کو سناتے پھریں گے جسکا انہیں اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
عزیزان من میں نہیں چاہتا کہ آپ سب میرے وجہ سے اس کیفیت سے گزریں۔لٰہذا آپ سب لوگ آج ہی نہ صرف میرے تمام بلاگز لفظ بہ لفظ غور سے پڑھیں ، کمنٹس کریں بلکہ بلاگ  کے ممبر بنیں۔اگر دوسروں کا بھی مطلع کریں گے تو قیامت کے دن میں اسکی گواہی دوں گا۔  باقی بخشش صرف اللہ کے 
ہاتھ میں ہے۔ 
میرے بلاگ ''نقش فریادی'' کا ایڈریس نوٹ فرما لیں۔۔


نقش فریادی کے فیس بک کے پیج کا ایڈریس بھی  درج ذیل ہے۔


آپکا خیر اندیش و     دور اندیش۔۔ 
                                                                                                                                                                                                                                                                       
                                                                                                                                     سید عاصم علی شاہ    


بدھ، 29 اپریل، 2015

اللہ تعالٰی کے ہاں ایک مومن کی اہمیت۔۔

0 comments
اللہ تعالٰی کے ہاں ایک مومن کی اہمیت۔۔

اگر کسی مومن کی (ناحق) قتل کرنے میں زمین و آسمان کی تمام مخلوقات ملوث ہوں تو اللہ تعالٰی ان سب کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔
جامع ترمذی،1398 ) سند صحیح ہے۔۔)

سوموار، 27 اپریل، 2015

محسن نقوی

0 comments
محسن نقوی

واسطہ حسن سے کیا شدت جذبات سے کیا؟
عشق کو تیرے قبیلے یا میری ذات سے کیا؟

مری مصروف طبعیت بھی کہاں روک سکی۔
وہ تو یاد آتا ہے اسکو مرے دن رات سے کیا؟

پیاس دیکھوں یا کروں فکر کہ گھر کچا ہے۔
سوچ میں ہوں کہ مرا رشتہ ہے  برسات سے کیا؟

آج اسے فکر ہے کہ کیا لوگ کہیں گے محسن۔۔۔۔
کل جو کہتا تھا مجھے رسم و  روایات سے کیا؟؟

حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ جون ایلیا

0 comments
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی.
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی.
بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں، پھر تیری یاد بھی گئی.
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے، عمر گزار دی گئی.
اس کے وصال کے لئے، اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل، کہ تھی خراب ،اور خراب کی گئی.
تیرا فراق جانِ جاں! عیش تھا کیا میرے لئے
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی.
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر

ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی.

جمعہ، 24 اپریل، 2015

کیا یہی دوستی ہے۔۔

0 comments
تحریر: سید عاصم علی شاہ

جدید دنیا میں زندہ قومیں اپنی  خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اپنے مفادات کو مقدم رکھتی  ہیں۔ ان مفادات کے تحفظ کے لئے دوسرے ممالک سے تعلقات   کو بڑھایا جاتا ہے اور دوستی   کو مزید مضبوط کیا جاتا ہے۔ اچھے  دوستوں کو قربان کر کےنقصان تو اٹھایا جا سکتا ہے فائدہ نہیں۔مگر  یمن کے مسلے پر پارلیمنٹ  میں ہونے والی بحث سے لگتا ہے کہ ہماری نا سمجھی ہمیں لے ڈوبے گی اور ہم اپنے قابل اعتبار اور آزمودہ دوستوں کو کھو بیٹھیں گے۔ تین چار  دن کی اس بحث میں ملکی مفادات اور تعلقات سے متعلق پالیسی کے پرغیر محتاط انداز گفتگو اختیار کیا گیا۔ اس طرح پارلیمنٹ کے اندر اور باہر  قوم تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ایک وہ جن کی ہمدردیاں سعودیہ  عرب کے ساتھ ہیں  دوسرا انٹی سعودی طبقہ اور تیسرا گروہ  جو''صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں'' کے مصداق بظاہر  غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دے رہا ہےمگر اندرون خانہ  دوسرے گروہ کا ہی ہم رکاب ہے۔  اول الذکرانٹی امریکن  مشہور ہیں جبکہ آخرالذکر  دونوں پرو امریکن۔
اس بحث کے دوران اکثر لوگوں کے چہرے کھل کر بلکہ دھل کر سامنے آئے۔  کیسے کیسے لوگ یہاں بھانت بھانت کی دانش سمیٹ کر لائے۔جو پارلیمنٹ میں تھے وہ  اندر  گرجے برسے اور جو  غیر پارلیمانی لوگ تھے وہ باہر نیوز چینلز اور اخبارات  میں بھڑکتے رہے ۔کسی نے سعودی جارحیت کا راگ الاپا، کسی نے ایرانی ناراضی سے ڈرایا،کسی نے اتحاد امت کے پارہ پارہ ہونے کی داستان سنائی۔ کسی نے اپنی خطابت کا رنگ جمایا اور کسی نے بخشو کاقصہ سنایا۔ اس ساری بحث میں اگر کسی نے معاملہ فہمی  ،سیا سی بصیرت  اور حقائق سے  بھرپور گفتگو کی ہے تو  وہ بی-این-پی کے چئیر مین محمود خان اچکزئی ہیں۔جنہوں نے پاکستان کے مسائل ،سعودیہ کے حالات  اور امت مسلمہ کو در پیش چلنجز  اور انکی وجوہات پر بات کی ۔مگر افسوس میڈیا نے انکے خطاب کو کوئی کوریج نہیں دی بلکہ یوں کہا جائے کہ جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ورنہ جس میڈیا  کی نظر سے راجیش کھنہ کی بیماری  ،  رانی مکھر جی کا موٹاپااور ہالینڈ کی مرغی کے ساتھ کھیلنے والی بلی بھی نہ چھپ سکی اس نظر سے اچکزئی صاحب کی 30 منٹ سے زائد دورانیے کی اتنی اہم  گفتگو کیسےمس ہو گئی۔
صاحبزادہ حامد رضا  نے کہا کہ ہم حکومت کو پارلیمنٹ کی قرارداد سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے نہیں دیں گے۔صاحبزادہ صاحب نے واضح نہیں کیا  کہ وہ اسی غیر آئینی اور دھاندلی کی پیدا وار پارلیمنٹ کی قرار داد کی بات کر رہے ہیں جس کے باہر چار ماہ تک دھرنا مار کے بیٹھے رہے۔ایک اور  صاحب ہیں ایک ملک گیر مذہبی جماعت  کے سر براہ بھی ہیں۔ پاک آرمی کو پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو افغانستان جا کر طالبان کا صفایا کر دیں گے۔ مگر موصوف کو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف لڑنے والے طالبان کا خیال نہیں آیاشائد کسی نے بتایا ہوگا  کہ یہ اصلی والے  طالبان نہیں ہیں اصل خطرہ تو سرحد پار  والے طالبان ہیں تو پھر نقلی طالبان بلکہ ظالمان  کے خلاف  اپنی توانائی کیوں صرف کریں بہر حال  اگر انہیں قوم کی تکلیفوں اور فوج  کی مشکلات  کا اتنا خیال تھا تو وزیرستان ہی چلے جائیں ۔ سنا ہےموصوف نے بھی سعودی عرب کی مدد کرنے کی مخالفت کر دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم حرمین شریفین کے لئے تو جان بھی  دے سکتے ہیں مگر آل سعود  کی حکومت کے لئے نہیں۔اب انہیں کون سمجھائے کہ اللہ تعالیٰ نےہی  آل سعود کو حکمران بنایا ہے اور وہی خادم حرمین شریفین بھی ہیں اور سعودی سرحدوں پر حملہ در اصل حرمین شریفین پر حملہ ہے۔
قارئین کرام  میری باتیں  آپ کو شائد غیر مربوط محسوس ہوں مگر مدعا ایک ہی ہے۔کہانیاں مختلف مگر مقصد ایک ہی ہے۔  جب گیارہ ہزار تین سو کلو میٹر دور جب امریکہ کو افغانستان سے خطرات لاحق ہوئے تو  '' مُکا مینوفیکچرر انڈسٹری'' کے پہلے اور آخری روح رواں صدر پرویز مشرف المعروف بیک فون لم لیٹ سرکارنے لاجسٹک سپورٹ  کی پیش کش کردی اتنی عجلت اور سرعت سے کہ  فون کرنے والا وزیر خارجہ اور اعلٰی امریکی حکام تک حیران رہ گئے جس کا ذکرسابق امریکی  وزیر خارجہ  کولن پاول نے اپنی کتاب میں بھی کیا اسکے علاوہ  پارلیمنٹ سے لے کر میڈیا تک بہت سوں  نے انکی ہاں میں ہاں ملاکر  گویا قومی خدمت سر انجام دی مگر انہی دور اندیش لوگوں  میں سے کسی کو سعودی سرحدوں کی طرف بڑھتے حوثی  باغی  جو  دور مار مزائلوں سے بھی لیس ہیں شائد موسمی خرابی کے باعث  نظر نہیں آئے۔نہ ایران ے روزانہ کی بنیاد پر یمن جانے والی پروازوں کا علم ہوگا نہ باغیوں کے علاقوں میں  نام نہاد امریکی این-جی-اوز   کی سرگرمیوں  سے  آگاہی   ہو گی۔ جوصاحب فہم فراست  کل تک  افغانستان پر امریکی جارحیت پر بغلیں بجاتے تھے آج سعودیہ کا جارح کہہ رہے ہیں ۔ جناب کیا کہنے۔بھٹو اور ضیاء کی روس مخالف افغان پالیسی کے ناقدین امریکہ کے افغانستان پر حملے کےحامی تھے اور  آج بھی ہیں۔تب مخالفت اور یہاں حمایت ۔ یہ تضاد کیوں۔؟ خیر اسفند یار ولی  خان نے تو صاف کہہ دیا کہ یمن میں سعودیہ کی مدد کے نتائج ہمیں بلوچستان میں بھگتنے پڑیں گے۔ اور ہمیں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا؟
دوسری  طرف دیکھئے  کچھ لوگ سعودیہ کی مدد کرنے کے بجائے سعودی عرب  اور یمن کے درمیان ثالثی   کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔  لیکن جب امریکہ کی ذاتی خواہش پر  طالبان اور امریکہ کے درمیان قظر میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو  یار لوگوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ۔بیچارے عمران خان بھی اسی طرز پر پاکستانی طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے پشاور میں طالبان کا  دفتر کھولنے کی تجویز  دی تھی پھر کیا تھا ''ثالث پسندوں  '' سے یہ برداشت ہی نہیں ہو کہ انکے علاوہ کوئی ثالثی کی بات کرے یا ثالثی کرائے-آخر انکی ثالثی آئی –ایس-او سرٹیفائیڈ ہے کوئی مذاق تھوڑی ہے۔انہوں نے کپتان صاحب کے وہ لتے لئے کہ خدا کی پناہ۔آج ثالثی  مگر کل ثالثی کی مخالفت ۔چہ معنی؟  اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا کے ۔تضادات کی داستان طویل ہے  کیا کیا بتا     ئیں۔
بات ہو رہی تھی قومی مفاد کی۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان  برادرانہ تعلقات کا آغاز 1947 ء میں قیام  پاکستان  سے ہوا۔ پھر یہ تعلقات ،1948 ، 1965 کی پاک بھارت جنگوں میں ہر آزمائش پر پورے اترے پھر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہو گیا حسب وعدہ امریکی بحری بیڑہ مدد کو  نہ آیا مگر عرب اس بار بھی مدد کو آئے۔  1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد  جب عالمی پابندیاں لگی تو عرب ملکوں  خصوصاً سعودی عرب  نے  چار سال تک  مفت تیل دے کر ہماری معیشت کوسہارا دئے رکھا۔1999 میں   کارگل وارہو یا دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی  پندرہ سالہ جنگ ،2005 میں آنے والا زلزلہ ہو یا 2010 کا تباہ کن سیلاب سعودی بھائی ہر موقع پر ہمارے شانہ بشانے کھڑے نظر آئے۔ انہوں نے کبھی دی جانے والی امداد کا حساب مانگا نہ بدلے میں کچھ چاہا۔نہ کبھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی نہ ہماری خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ عالمی سطح پر اور یو-این-او میں ہر مسلے پر پاکستان کی دو ٹوک حمایت کی۔ علاوہ ازیں 30 لاکھ سے زائد پاکستانی عرب ملکوں میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جو اربوں ڈالر پاکستان بھیج کر ملکی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور یار لوگ ان تعلقات کو شریف برادران کے ذاتی تعلقات  قرار دے کر رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں سے جاری  ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات  بلاآخر  نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔ اور  ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔اس  معاہدے کے بعد ایران  ایٹمی اسلحہ نہیں بنا سکے گا۔بدلے میں ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ایسا صرف اس لئے ممکن ہوا کہ ایرانی معیشت عالمی پابندیوں کے باعث مشکلات کا شکار تھی جس پر مجبوراً ایران کو سمجھوتا کرنا پڑا۔ مگر اپنے تمام تر مسائل اور بیرونی دباؤ کے با وجود پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام  کامیابی سے مکمل کیا   اس  عظیم کامیابی پر سیاسی وعسکری قیادتوں  کی ہمت   اور مستقل مزاجی  کی داد دی جانے چاہیئے کہ بھٹو کے شروع  کردہ  ایٹمی پروگرام کو باقی آنے والے تمام قیادتوں نے  اپنی ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھا ۔ مگر اس سارے عمل میں عرب ریاستوں خصوصاً سعودی عرب کے تعاون کا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جنہوں نے  شروع سے لے کر آخر تک ہمہ قسمی تعاون کیا۔
یہ تعاون ، احسانات اور تعلقات اپنی جگہ  مگر سب سے بڑھ کریہ کہ وہاں مسلمانوں کے سب سے مقدس مقامات  حرمین شریفین واقع ہیں جن  کی حفاظت ہر مسلمان کے ذمہ ہے۔ ہم  کیا سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نہ گئے تو حرم کا دفاع   کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حرم کی حفاظت اللہ پاک  خود کر لیں گے جیسے ابراہ کے آنے پر کی تھی۔لیکن یہ ایک موقع ہے  اس سعادت کو پانے کا اور خوش نصیبوں میں اپنا نام لکھوانے کا۔اگر حرمین شریفین کی طرف غلط ارادے لے کر  بڑھنے والے  باز نہیں آ رہے تو ہم کیوں شرما رہے ہیں۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ  سعودی سرحدوں کی طرف بڑھتا خطرہ دراصل سرزمین حرمین کے لئے خطر ہ ہے۔جس کا دفاع سعودی عرب سمیت ہر مسلمان کا فرض ہے۔لہٰذا یمن کی طرف سے اٹھنے والے  خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
 مذاکراتی عمل  ضرور شروع کیا جانا چاہیئے مگر یہ بھی دیکھا جائے کہ دوسری پارٹی  مذاکرات کرنا بھی چاہتی ہیں کہ نہیں۔ انکی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے، انکے مقاصد جاننے کی کوشش کی جائے۔انکے  منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کا دماغ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایرانی جنرل  کی طرف سے سعودیہ کو دی جانے والی واضح  دھمکی  یہ  ثابت کرتی ہے کہ ایران  یمن میں دلچسپی لے رہا ہے مگر ساتھ ہی یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ایران کی وہاں دلچسپی کیا وجہ  ہے اسے کس بات کی  جلدی ہے۔اگر حوثیوں کی منزل سعودی عرب نہیں تو انہیں  ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ امن چاہتے ہیں۔انہیں سعودی سرحدوں سے دور ہٹ جانا چاہیئے۔ہتھیار ڈال کر  مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیئے۔یاد رکھیں اگر سعودیہ عدم استحکام کا شکار ہوا تو کوئی مسلمان ملک نہیں بچے گا۔ اگر ہم حجاز مقدس کی حفاظت کرنے کےلئے راست اقدامات کے  بجائے تاویلیں گھڑنے بیٹھ جائیں گے تو سمجھ لیں دشمن اپنا منصوبے میں آدھا کامیاب ہو چکا ہے۔ سرزمین حرمین  مسلمانوں کی مذہبی اور ملی  وحدت کی نشانی ہے مسلمانوں پر غلبے کے لئے اس پر قبضہ ضروری ہے۔ جیسے سلطنت عثمانیہ   جو کہ خلافت  کا تسلسل اور مسلمانوں کی واحد طاقت تھی جس سے یورپ کے ایوان لرزتے تھے جب  غیروں کی سازشوں اور اپنوں کی بے حسی کے باعث اس کا شیرازہ بکھرا تو اس کے  بعد مسلمان سنبھل نہ سکے اور  انہیں  سرحدوں کے نام پر  ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس سے پہلے کہ  پھر وہی تاریخ  دہرائی جائے ہمیں ہر قدم  سوچ سمجھ کر  اٹھانا ہوگا۔

جمعرات، 16 اپریل، 2015

''پارلیمنٹ''

0 comments

عرب ممالک نے پاکستان کی مضبوط جمہوری روایات سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا ہے کہ اب دنیا میں ''کہیں بھی''  جنگ ہو سیلاب آئے یازلزلہ تباہی مچائے ہم  یونہی منہ اٹھائے مدد کو نہیں جائیں گے بلکہ پارلیمنٹ سے باقاعدہ اجازت لی جائے گی۔یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
(خیال آرائی)

منگل، 31 مارچ، 2015

یمن کے حالات اور پاکستان

0 comments

یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان کافی عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ملک کےوسیع علاقے پرباغیوں کا  قبضہ ہے۔ان کی بڑھتی  ہوئی تخریبی سرگرمیوں  اور سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کو  درپیش  ممکنہ خطرات کے پیش نظرسعودیہ  کے نئے بادشاہ نے باغیوں پر براہ راست حملے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت  پاکستان نے یمن کی صورتحال کے حوالے سے سعودیہ عرب کی حمایت کااعلان کیا ہے۔ تاہم پاکستان نے  براہ راست فریق بننے کے بجائے اس مسلے کے پرامن حل کی کوششوں پر زور دیا ہے۔
پاکستان کئی سالوں سے  خود دہشت گردی کا شکار ہے  اور کوئی نیا محاز کھولنا عقلمندی نہیں ہوگی۔   یہاں بات صرف آل سعود کی حکومت کی نہیں بلکہ حرمین شریفین کے اور روضہ رسولﷺ  کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جو ہر مسلمان پر لازم ہے۔ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے درست کہا کہ اگر سعودیہ عرب   اور حرمین شریفین کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان  ہر حال میں سعودیہ کا دفاع کرے گا۔ تمام مسلم ممالک کا اس حوالے سےیہی موقف ہے۔خصوصاً عرب لیگ نے واضح طور پر اس  عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ہمارے ہاں گرما گرم ماحول بن گیا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں نت نئی بحثیں چھڑ گئی ہیں۔ چھوٹے چائے خانوں سے لے کرپارلیمنٹ تک ، پیالی میں طوفان اٹھانے کے ماہر، پراپیگنڈا ایکسپرٹس،  دانشور،صحافی اوراینکرز ، مقررین حضرات  ،علماء کرام تک سب  رائے زنی میں مشغول ہیں۔ کوئی فوج کو سعودیہ بھیجنے کی بات کر رہا ہے تو کوئی شدید مخالفت کر رہا ہے۔کسی کے نزدیک یہ یمن کا داخلی مسلہ ہے  کوئی اسے سعودیہ کی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ سب ایران کی شہ پر ہو رہا ہے ۔یہاں  لوگوں رائے میں واضح  تضاددیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ تضاد بلاوجہ نہیں بلکہ انکی قلبی وابستگی،طبعی رجحان اور مذہبی نقطہ نظر کا عکاس ہے۔شام اور عراق میں ایران کی مداخلت کے حامی  سعودیہ کے یمن پر حملے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور حکومت  کو اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ  اس سے ایران کی ناراضی کا خطرہ ہے۔ایک دوسرا طبقہ سعودیہ کی ہمہ قسمی مدد کی ترغیب دے رہا ہے۔
حالانکہ غیر جانبدارانہ رائے یہ کہ ایران کا  یمن میں کیا کام؟ جبکہ  ایران اسکی مسلسل تردید بھی کر رہا ہے کہ وہ یمن میں خرابی کا ذمہ دار نہیں ہے۔مگر دوسری طرف حزب اللہ  کے حسن نصراللہ سعودیہ کو یمن میں مداخلت پر وارننگ دے رہے ہیں۔کچھ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس سارے معاملے میں ضرور دلچسپی لے رہا ہے شام اور عراق میں ایران کی  واضح مداخلت سامنے رکھتے ہوئے سعودیہ کا محتاط ہونا لازم تھا۔اس سے پہلے کہ شام ،عراق اور یمن میں سلگتی آگ سعودی عرب تک پہنچے اس نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر یمنی باغیوں  پر حملہ کر دیا۔سعودیہ کا ایسا کرنا چاہئے تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔
اصل میں مغرب کےشاطر دماغ برسوں سے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے خواہش مند ہیں تاکہ اسلامی دنیا   کی طاقت اور وسائل کوآپس میں لڑا کر تباہ و برباد کر دیا جائے۔''عرب بہار'' کے خوشنما نعرے کے تحت شروع ہونے والی تحریکوں میں اندرون خانہ کیا ہو رہا ہےیہ اب ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ شام میں سنی اپوزیشن کو اسلحہ فراہم کرنے والےممالک عراق میں شیعہ حکومت  کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ وہی طاقتیں یمن  میں  حکومت مخالف القائدہ پر حملے کرتی ہیں اور دوسری طرف حوثی باغیوں کو امداد دے رہی ہیں۔مقصد صرف ایک ہے کہ  مسلمانوں کا آپس میں لڑا کر  انہیں کمزور کرو  امداد اور اسلحے کے عوض ان کے وسائل  پر ہاتھ صاف کرو۔ مسلم دنیا کو اب سنجیدگی سے  اپنے مسائل اور حالات پر غور کرکے مناسب فیصلے بروقت کرنا ہونگے ورنہ یہ حالات کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
استعماری قوتیں  ہمیشہ مسلمانوں کے آپس کے اختلافات اور اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔آج بھی مسلم ممالک میں لسانی، علاقائی اور  فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دے کرتصادم کا  ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔ شیعہ اور سنی مسالک میں واضح اختلاف موجود ہے۔ دونوں  مذاہب کے لوگ تقریباً تمام مسلم ممالک  میں پھیلے ہوئے ہیں۔مغرب کا خیال ہے کہ  اگر ان دونوں گروہوں کے درمیان  جنگی کیفیت پیدا کر دی جائے تو  سارا عالم اسلام جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ اور مغربی دنیا اس نہج پر کیوں سوچ رہی ہے۔؟  ان کے اس منصوبے کا انہیں کیا نتیجہ نظر آ رہا ہے۔؟
جواب بڑا سادہ سا ہے۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب پسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کے ذہنوں میں اس انقلاب کو ساری دنیا میں پھیلانے کا منصوبے پنپنے لگا۔ اسی سوچ کے تحت دوسرے ممالک میں پھیلے اپنے ہم مذہب لوگوں کا متحرک کرنا شروع کر دیا۔ایسا لگتا ہے کہ  ''انقلاب پسندوں" کے توسیع پسندانہ  عزائم مسلم دنیا کوآپس میں  لڑانے کی مغربی خواہش کو  حقیقت میں بدل دے گی۔موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ  شام  میں براہ راست فوجی  مداخلت،عراق اور لبنان میں  اپنے حمائتیوں کی کھلی پشت پناہی کے بعد  اب ایران کی نظریں یمن پر لگی ہیں۔ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای قریبی ساتھی اور با اثر رکن پارلیمنٹ  علی رضا ذکانی کا کہنا ہے کہ  تین عرب ممالک شام، عراق اور لبنان کے بعد اب یمن بھی ہماری جیب میں آ گیا ہے۔اب ہماری نظریں سعودیہ عرب پر ہیں۔ اس طرح کی انتہا پسندانہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ  خطے میں جنگ کے بادل منڈلارہے  ہیں۔ سب سے افسوس ناک پہلو  یہ ہے کہ یہاں مسلمان ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔
یہا ں ایک اور  بات کا ذکر کرتا  چلوں کہ مختلف مذہب ،زبان ،سوچ  اور  تہذیب و تمدن کےحامل دو   ملک بھارت اور ایران میں  ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں  ایک عرصے سے اپنی سرحدوں اور اثر و رسوخ میں اضافے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اسکی خاطرانہوں نے  خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خطر ناک بنا دیا ہے  اس کھیل  میں انہیں میں مغربی قوتوں کی  آشیرباد  حاصل ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک میں مداخلت، سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ اور مخصوص گروہوں کی پشت پناہی کسی سے ڈھکی چھپی  بات نہیں ہے۔عالمی طاقتیں بھارت کو جنوبی ایشیا اور ایران کو مشرق وسطٰی میں طاقتور دیکھنا چاہتی ہیں۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ مخاصمت  بیرونی مداخلت کے ساتھ ساتھ مقامی علماء کے غیرسنجیدہ رویے  کا نتیجہ ہے۔ اول توموجودہ حالات کے پیش نظر آپس کے  اختلافات کو ختم  کرنے کی کوشش کی جائے اگر ایسا ممکن  نہیں تو کم سے کم برداشت کا ماحول پیدا کیا جائےاور ایک دوسرے کے مقدسات اور مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔ تاکہ دلوں میں پلنے والی فرقہ وارانہ نفرتیں ختم  نہیں تو کم ضرور سکیں۔
نئے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بحرین، عراق ،اورشام کے بعد اب یمن میں  باغیوں کی بڑھتی سرگرمیاں ایران کی کھلی  حمایت اور  امریکی دوغلے پن کے  کے بغیر ناممکن تھیں۔ اس لئے انہوں نے امریکہ کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیا۔ ترکی، اردن،قطر،کویت،مراکش،سوڈان،متحدہ عرب امارات کے طیارے اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایران اور روس کے سوا تمام اہم ممالک نے اس آپریشن کی حمایت کی ہے۔یہاں ایران کے کردار پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اگر ایران واقعی  امریکی عزائم کی راہ میں حائل ہونا چاہتا ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ ظاہر کرتا ہے  تو اسے مسلم ممالک کو مضبوط کرنا چاہیئے تھا  مگر موجودہ منظر نامہ اس کے بر عکس نظر آ رہا ہے۔
سعودی عرب کی پوزیشن 80 ءکی دہائی کے پاکستان سے کچھ مختلف نہیں ہے جب روس کے افغانستان پر حملہ کےبعد پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ وہ کرے تو کیا کرے؟آگے بڑھ کر روس کا راستہ روکے یا آنکھیں بند کر کے بلی کا انتظار کرے۔ اس وقت کی قیادت نے حالات کے پیش نظر جو فیصلہ کیا اس پر بحث کا یہ وقت نہیں ہے۔ مگر جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس جنگ میں حصہ نہیں بننا چاہیئے تھا ان سے سوال ہے کہ کیا پھر روس صرف افغانستان تک محدود رہتا؟ اگر نہیں تو پاکستان کا آج کیا حال ہوتا۔ اور جو لوگ پاکستان کی افغان جنگ میں شمولیت کو درست سمجھتے ہیں وہ بھی آج ملک کے حالات دیکھ لیں۔ آج امریکہ کی وجہ سے ملک میں بد امنی اور دہشت گردی ہے  تب یہی حالات روس کی وجہ سے پیدا ہوتے۔  دونوں  صورتوں میں یہی کچھ ہونا تھا کیونکہ پاکستان شروع سے عالمی طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ لہٰذا آج  کے حالات میں جو بھی فیصلہ کیا جائے سوچ سمجھ کر اور ملکی اور امت مسلمہ کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔