اتوار, ستمبر 13, 2015

مزدور بچے

0 comments

   ایک  جملہ جو اب معروف نعرہ  بن چکا ہے کہ ''چائلڈ لیبر جرم ہے'' سماجی تنظیموں کا یہ  من  بھاتا  جملہ مجھے بہت عجیب لگتاہے۔  اس  جملے کے تخلیق کاروں کا پیغام اور مقصددونوں  واضح ہے انکے اخلاص پر شک نہیں کیا جا سکتا  مگر اس جملے ک خوش نمائی تلے بےبسی اور لاچاری کی کئی کہانیاں پنہاں    ہیں جن کو نظر انداز کرنا ایک خوفناک غلطی ہوگی جس کا انجام  معاشرے کی یقینی  تباہی ہے۔کوئی با شعور انسان چائلڈ لیبر  کا حامی نہیں ہو سکتا  ۔  یہا ں ایک بات قابل غور ہے کہ چائلڈ لیبر اور جبری مشقت  میں فرق ہے۔  سارے مزدور بچے جبری مشقت کے ضمرے میں نہیں آتے۔مگر ایک ساد ہ سے سوال   کا جواب درکار ہے کہ ہے کہ  یہ مشقت جبری ہو یا دلی آمادگی کے ساتھ بچے آخرمشقت پر آمادہ کیوں ہو جاتے  ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر پیٹ بھرا ہو تو بچوں کو سونے اور کھیلنے کے  علاوہ کچھ نہیں سوجھ سکتا۔ بچوں سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ  بچے فطری طور پر  کھیل کو نیند پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ایسے میں محنت مشقت کا خیال کیوں کر  آ سکتا ہے؟  اس سوال کا جواب جانے بغیر کوئی نتیجہ خیز اور مؤثر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر  چائلڈ لیبر واقعی جرم ہے تو کس کا  اور  اگر قابل تعزیر ہے تو سزا کس کا مقدر ہے ؟  کیا یہ اس بچے کا جرم ہے جواپنے معذور یا مرحوم  باپ   کی ذمہ داری اپنے کمزور کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے؟  جو دکھیاری  ماں کا سہارا بننا چاہتا ہے یا  پھر  اس بچے کاجواپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کی خاطر اپنا بچپن قربان کر چکا ہے یا  یہ اس شخص کا جرم ہے  جس نے اسے کام پر رکھا ہے یا پھر اس نظام کا جس نے اسے زمانے کی ٹھوکریں  کھانے کے لئے بے سہارا چھوڑ دیا۔ جو اس صورتحال کا ذمہ دار ہے وہی سزاوار ہے۔ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے تو اس مسلے کا  حل آسان ہو جائے گا۔
 تاریخ اسلام رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ رات کا آخری پہر ہےخلیفہ وقت  اپنے کاندھے پرراشن اور دیگر  اشیاء ضروریہ کی گھٹری اٹھانے لگتا ہے تو  غلام کہتا ہے کہ میں حاضر ہوں  پھر آپ کیوں سامان اٹھا رہے ہیں مجھے دے دیجیئے، جواب ملا روز قیامت  مجھے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے اس لئے یہ بھی مجھے اٹھانے دو۔  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومت کا رعایا سے متعلق  جو  کردار ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آ رہا ۔ ملک میں اکثر مسائل صرف حکومت وقت کی نا اہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے  پیدا ہوئے ہیں۔ریاست کو  ا س معاملے  پر سنجیدگی دکھانےکی ضرورت ہے۔ ایک عورت امام ابو حنیفہ  کے پاس  اپنے بچے کو پڑھنے کے لئے  چھوڑ جاتی ہے کچھ دنوں بعد بچے کی واپسی کی درخواست کرتی ہے کہ میرا کمانے والا کوئی نہیں  یہ کوئی کام کرے گا تو گزر بسر ہوتی رہے گی۔آپؒ نے انکا وظیفہ مقرر کر دیا  تاکہ بچہ کی  تعلیم کا حرج نہ ہووہی بچہ بڑا ہو کے امام ابو یوسفؒ کے نام سے معروف ہوا۔ یہ تو حکومت  وقت کی کام ہوتا ہے جسے پورا کرنے میں اب تک  کی تمامحکومتیں  پوری طرح ناکام رہی  ہیں۔اب تک نہ جانے کتنے ابو یوسف، امام غزالی ،ابن سینا اور الرازی ہماری حکومتوں کی عدم  توجہ کے باعث کتنے گلی  کوچوں کی دھول بن چکےہیں۔
میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ  معصوم  بچہ کھلونے چھوڑ کر اوزار  کیسےاٹھا لیتا ہے۔ اپنے گھر والوں کی پکار پر دھیان نہ دینے والا   اپنی بے نیازنہ فطرت    سے انحراف کرکے  اپنے "استاد" کی ایک جنبش ابرو  پر کیسے  لپکتاہے۔؟روزانہ صبح اپنےہم عمربچوں کی طرح اسکول جانے   کے بجائے دن بھرکی  جان توڑ  مشقت کے لئے  خود کو کیسے تیار کرتا ہے؟ ۔ کیا ایک بچہ اتنا سمجھدار ہوتا ہے کھیلنے کی عمرمیں  اپنی شرارتوں کو گھر کے آنگن میں دفنا کر گھر بھر کی پوری ذمہ داری  اٹھا لے۔  اپنی مجبوریوں کے بدلے مسکراہٹوں سے دست بردارہونا کوئی کھیل ہے ؟ ننھے  دل میں مچلتی خواہشوں  کو تھپک  تھپک کر سلانا کیا واقع آسان  ہے۔؟  مانا بچوں سے کام لینا جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ انکے کھیلنے کودنے اور پڑھنے کے دن ہوتے   ہیں۔ لیکن جو بچے  بے سہارا  ہیں جن کے کفیل دنیا سے جا چکے، قید ی ہیں ،لاپتہ ہیں یا  والدین  معذور ہیں اوروہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کا کون وارث بنے گا کہ وہ پڑھ سکیں ۔انکے تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری کون لے گا؟  ان کو روزآنہ جیب خرچ کون دے گا؟  کون اسکول چھوڑنے جائے گا۔؟ جن کو روٹی کے لالے پڑے ہیں  وہ کیسےپڑھ سکتے ہیں؟یہ ادھورہ قانون انکے ساتھ سنگین مذاق ہے یہ توانکے زخم کھرچنے کے مترادف ہے۔۔
ہمارا مذہب اپنے  ہمسا ئیوں چاہے وہ  غیر مسلم  ہی کیوں نہ ہوں  ان کے  حقوق کا خیال رکھنے کی بھی  تعلیم دیتا ہے اور  رشتے داروں کے  حقوق تو اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اگر ہمسائیوں، رشتے داروں  یا جاننے والوں میں کوئی بے سہارا   بچہ  یا خاندان  ہے تو اسکی کفالت کرنا صاحب حیثیت لوگوں خصوصاً رشتے داروں اور ہمسائیوں  کا  فرض  ہے تاریخ اسلام ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔اس طرح  یہ  ریاست  کی  بھی ذمہ داری ہے ۔کیا ہم لوگ اور حکومت اس  اپنی ذمہ داری  کو پورا کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر اسکا جواب ڈھونڈا جائے تو ہمارے بہت سےانفرادی و اجتماعی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہ  مزدور اور بے سہارا بچے  بھی پڑھیں تو ایسے بچوں اورانکے  خاندانوں کی کفالت کی  پوری ذمہ داری  لینا پڑے گی۔  تعلیم کے نام پہ ویسے بھی کتنا خرچ ہو جاتا ہے،کتنا پیسہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔سرکاری فنڈ  کے خوردبرد کی خبریں روز پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اس سلسلے میں زکوٰۃ ،  تعلیم  اور سماجی بہبود کے محکماجات کو  آپس  میں کوارڈینیشن کے بعدایک مشترکہ ٹیم بنا کر مستحق خاندانوں اور بچوں کی تعلیمی اور معاشی ضروریات  کے حوالے سے  ملک گیر  سروے کرایا جائے اور  حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں۔ جس پر جلد از جلد غور کر کے کوئی موثر لائحہ عمل بنایا جائے۔ معروف فلاحی تنظیم  اخوت کی طرز پر  ایک تنطیم کھڑی کی جا سکتی ہے جس میں معاشرے کے ایماندار مگر بے روزگار افراد کو بھرتی کیا جائے اور اپنے ہی علاقوں میں ان سے مستحق افراد اور خاندانوں کے کوائف  اکھٹے کرائے جائیں اور انکی امداد کے ذرائع  اور نظام کی شفافیت پر غور و فکر کر کے کوئی لائحہ عمل تیار کی جا سکتا۔ جس کے یقینناً دور رس نتائج نکلیں گےورنہ صرف چائلڈ لیبر کے نام پر  ایسے بچوں کے لئے روزگار پر پابندی لگانے سے حالات مزید خراب ہونگے اور معاشرے میں جرائم خصوصاً  جنسی جرائم کی  کی شرح خطرناک حد تک بڑھ جائے گی۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور مسلہ یہ ہے کہ ان بچوں کے لئےروزی کمانا آسان تھوڑی ہے۔ وہاں بھی  بچوں کو بڑے مسلے درپیش ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر سے کوئی بچہ قریبی دوکان سے کچھ لینے جائے تو مائیں دروازے سے لگی انتظار میں  کھڑی  رہتی ہیں۔ جبکہ وہ بھی تو مائیں ہیں جو اپنے معصوم بچوں کو   صبح صبح کام کے لئے بھیجتی ہیں اورخود سارا دن سولی پہ لٹکی رہتی ہیں کہ پتہ نہیں کیسا کام ہے ، کیسے لوگ ہیں، مارتے تو نہیں ہوں گے۔ کھانا بھی ٹائم سے کھاتا ہوگا کہ نہیں۔آئے روز ٹی وی چینلز پر بچوں کا ذرا ذرا سے نقصان پر مارنے پیٹنے، ہاتھ یا بازو توڑنے، جلانے یا تشدد سے ہلاک کرنے کی  خبریں آتی رہتی ہیں۔ اکثر جنسی تشددکی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ ہم سے اپنے بچوں کو کسی کا ڈانٹنا برداشت نہیں ہوتا۔ مگر یہاں تو ظلم کی نت نئی داستانیں ملتی ہیں۔ جب بھی کوئی ایسی خبر سنتا ہوں تو کئی کئی دن بات  ذہن سے نہیں اترتی  کہیں چوری کے الزام میں بچے کوجان سے مار دیا جاتا ہے۔کیا چوری ہونے والی چیز  اسکی جان سے بھی زیاداہ قیمتی چیز ہو گی ؟  کہیں گندم کے کھیت میں آگ لگانے کے شبے میں زمیندار نے  بچے کو جلا دیتا ہے ۔ ان حالات میں کون معصوم کمانے جا سکتا ہے اور کون  سے والدین بچوں کا ایسی جگہوں پر بھیجنے کے لئے تیار ہو نگے ہیں مگر پھر بھی کام کرنے والے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے  آخر  کیوں؟ وہی پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر۔ ایک مسلہ کم اجرت بھی ہے جبکہ سارا دن بڑوں کی طرح کام کرنے کے با وجود تھوڑی اجرت ملتی ہے۔کسی دانشور کا قول ہے کہ بھوک دنیا کا سب سے بھیانک سچ، سب سے تلخ حقیقت، سب سے بڑی کمزوری ہے۔
پاکستان  کی آبادی ایک اندازے کے مطابق  انیس کروڑ سے تجاوز کر  چکی ہے۔عالمی ادارہ محنت آئی –ایل-او کے مطابق پاکستان میں  تقریباً نوے لاکھ سے زائد بچے مزوری کرتے ہیں۔تقریباً چالیس لاکھ بچے باقاعدہ کام کاج والی جگہوں پرکام   کرنےجاتے ہیں۔تقریباً چالیس سے پچاس لاکھ بچےگھروں اورکھیتوں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ۔ ان بچوں  میں لڑکے 73 فیصد اور لڑکیوں کا تناسب  ستائیس فیصد ہے۔۔ان میں سےاکیاسی فیصد بچے حالات کے ہاتھوں کام کرنے پر  مجبور ہوئے۔ یونیسکو کے مطابق پاکستان میں 70لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے اور اسکول نہ جانے والے بچوں کی اکثریت  شہری علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔حکومت پنجاب نے '' پڑھا لکھا پنجاب'' کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہےجس کے تحت  اسکول پڑھنے کی عمر کے تمام بچوں کو اسکول میں داخل کیا جائے گا اور انہیں کام پہ بھیجنے والے والدین اور کام پر رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔میں ایسے بہت سے گھرانوں کو میں جانتا ہوں جو ان بچوں کی آمدنی سے گزر بسر کر رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہماری آمدنی کا معقول انتظام کر دے یا عورتوں کو گھریلوں سطح پر کام کے مواقع پیداکرے تو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو کام پر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ انکا بھی دل کرتا کہ انکے بچے بھی اسکول جائیں پڑھ لکھ کر  اچھا انسان بنیں اور اچھی زندگی گزاریں۔
میرے ایک ٹیچر دوست بتا رہے تھے انہیں محکمہ تعلیم کی جانب سے  گھر گھر جا کر اسکول نہ جانے والے  بچوں کو داخل کرنے اور انہیں اسکول لانے کے احکامات ملے تو  وہ اسی سلسلے میں اپنے متعلقہ علاقے میں اہل علاقہ  سے ملنے گئے تو ایک آدمی  نے دو ٹوک  بات کی کہ ماسٹر جی  ہمارے ساتھ پیٹ بھی لگا ہوا ہے۔میں معذور ہوں  میرے دو بچےایک ہوٹل پہ کام کرتے ہیں ہیں دونوں چھ چھ ہزار لاتے ہیں دو ٹائم کھانا بھی ملتا ہے شام کو دودھ بھی  لاتے ہیں۔ آپ بارہ ہزار اورایک کلو دودھ دے دیا کریں دونوں بچے کل سے اسکول آ جایا کریں گے۔میرے دوست  نے کہا کہ اب گورنمنٹ نے سختی کر دی ہے عمل نہ کرنے پر جیل بھی ہو سکتی ہے تو جواب ملاکہ  گورنمنٹ کیا ہمیں کھانے کو دیتی ہے؟ اور جو لوگ پڑھ لکھ کر نوکری کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں  پہلے انکا کوئی  انتظام کیجئے۔ اس آدمی کے یہ جملے قابل غور و فکر ہیں۔یہاں یہ بات سوچنے لائق ہے  کہ کیا لوگوں کے لئے روزگار کی فراہمی میں حکومت کا بھی کوئی کردار ہوتا ہے۔برطانیہ میں حکومت  بے سہارا بچوں، معذورافراد   اور بوڑھے لوگوں کوبہت سی سہولیات فراہم کرتی  ہے۔  مستحق طالبعلموں کو ہفتہ وار وظیفہ دیتی ہے جس سے انکا اچھا خاصا گذارا ہو جاتا ہے۔ اسکے علاوہ بیروزگار لوگوں کو اس  وقت تک وظیفہ ملتا ہے  جب تک ان کو معقول نوکری نہیں مل جاتی۔کم و بیش یہی قانون یورپ کے تمام ممالک میں رائج ہے۔ مگر پاکستان کی صورتحال  مختلف ہے یہاں مراعات یافتہ  دن بدن  ترقی  امیر ہوتا جا رہا ہے مگر غریب آدمی ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی  دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔  یہ "مزدور  بچے" اسی تلخ حقیقت کے غماز ہیں۔

http://naqshefaryadi.blogspot.com