منگل, مارچ 31, 2015

یمن کے حالات اور پاکستان

0 comments

یمن میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان کافی عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ملک کےوسیع علاقے پرباغیوں کا  قبضہ ہے۔ان کی بڑھتی  ہوئی تخریبی سرگرمیوں  اور سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کو  درپیش  ممکنہ خطرات کے پیش نظرسعودیہ  کے نئے بادشاہ نے باغیوں پر براہ راست حملے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت  پاکستان نے یمن کی صورتحال کے حوالے سے سعودیہ عرب کی حمایت کااعلان کیا ہے۔ تاہم پاکستان نے  براہ راست فریق بننے کے بجائے اس مسلے کے پرامن حل کی کوششوں پر زور دیا ہے۔
پاکستان کئی سالوں سے  خود دہشت گردی کا شکار ہے  اور کوئی نیا محاز کھولنا عقلمندی نہیں ہوگی۔   یہاں بات صرف آل سعود کی حکومت کی نہیں بلکہ حرمین شریفین کے اور روضہ رسولﷺ  کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جو ہر مسلمان پر لازم ہے۔ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے درست کہا کہ اگر سعودیہ عرب   اور حرمین شریفین کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان  ہر حال میں سعودیہ کا دفاع کرے گا۔ تمام مسلم ممالک کا اس حوالے سےیہی موقف ہے۔خصوصاً عرب لیگ نے واضح طور پر اس  عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ہمارے ہاں گرما گرم ماحول بن گیا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں نت نئی بحثیں چھڑ گئی ہیں۔ چھوٹے چائے خانوں سے لے کرپارلیمنٹ تک ، پیالی میں طوفان اٹھانے کے ماہر، پراپیگنڈا ایکسپرٹس،  دانشور،صحافی اوراینکرز ، مقررین حضرات  ،علماء کرام تک سب  رائے زنی میں مشغول ہیں۔ کوئی فوج کو سعودیہ بھیجنے کی بات کر رہا ہے تو کوئی شدید مخالفت کر رہا ہے۔کسی کے نزدیک یہ یمن کا داخلی مسلہ ہے  کوئی اسے سعودیہ کی جارحیت قرار دے رہا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ سب ایران کی شہ پر ہو رہا ہے ۔یہاں  لوگوں رائے میں واضح  تضاددیکھنے میں آ رہا ہے۔یہ تضاد بلاوجہ نہیں بلکہ انکی قلبی وابستگی،طبعی رجحان اور مذہبی نقطہ نظر کا عکاس ہے۔شام اور عراق میں ایران کی مداخلت کے حامی  سعودیہ کے یمن پر حملے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور حکومت  کو اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ  اس سے ایران کی ناراضی کا خطرہ ہے۔ایک دوسرا طبقہ سعودیہ کی ہمہ قسمی مدد کی ترغیب دے رہا ہے۔
حالانکہ غیر جانبدارانہ رائے یہ کہ ایران کا  یمن میں کیا کام؟ جبکہ  ایران اسکی مسلسل تردید بھی کر رہا ہے کہ وہ یمن میں خرابی کا ذمہ دار نہیں ہے۔مگر دوسری طرف حزب اللہ  کے حسن نصراللہ سعودیہ کو یمن میں مداخلت پر وارننگ دے رہے ہیں۔کچھ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس سارے معاملے میں ضرور دلچسپی لے رہا ہے شام اور عراق میں ایران کی  واضح مداخلت سامنے رکھتے ہوئے سعودیہ کا محتاط ہونا لازم تھا۔اس سے پہلے کہ شام ،عراق اور یمن میں سلگتی آگ سعودی عرب تک پہنچے اس نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر یمنی باغیوں  پر حملہ کر دیا۔سعودیہ کا ایسا کرنا چاہئے تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔
اصل میں مغرب کےشاطر دماغ برسوں سے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے خواہش مند ہیں تاکہ اسلامی دنیا   کی طاقت اور وسائل کوآپس میں لڑا کر تباہ و برباد کر دیا جائے۔''عرب بہار'' کے خوشنما نعرے کے تحت شروع ہونے والی تحریکوں میں اندرون خانہ کیا ہو رہا ہےیہ اب ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ شام میں سنی اپوزیشن کو اسلحہ فراہم کرنے والےممالک عراق میں شیعہ حکومت  کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ وہی طاقتیں یمن  میں  حکومت مخالف القائدہ پر حملے کرتی ہیں اور دوسری طرف حوثی باغیوں کو امداد دے رہی ہیں۔مقصد صرف ایک ہے کہ  مسلمانوں کا آپس میں لڑا کر  انہیں کمزور کرو  امداد اور اسلحے کے عوض ان کے وسائل  پر ہاتھ صاف کرو۔ مسلم دنیا کو اب سنجیدگی سے  اپنے مسائل اور حالات پر غور کرکے مناسب فیصلے بروقت کرنا ہونگے ورنہ یہ حالات کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
استعماری قوتیں  ہمیشہ مسلمانوں کے آپس کے اختلافات اور اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔آج بھی مسلم ممالک میں لسانی، علاقائی اور  فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دے کرتصادم کا  ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔ شیعہ اور سنی مسالک میں واضح اختلاف موجود ہے۔ دونوں  مذاہب کے لوگ تقریباً تمام مسلم ممالک  میں پھیلے ہوئے ہیں۔مغرب کا خیال ہے کہ  اگر ان دونوں گروہوں کے درمیان  جنگی کیفیت پیدا کر دی جائے تو  سارا عالم اسلام جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ اور مغربی دنیا اس نہج پر کیوں سوچ رہی ہے۔؟  ان کے اس منصوبے کا انہیں کیا نتیجہ نظر آ رہا ہے۔؟
جواب بڑا سادہ سا ہے۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب پسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان کے ذہنوں میں اس انقلاب کو ساری دنیا میں پھیلانے کا منصوبے پنپنے لگا۔ اسی سوچ کے تحت دوسرے ممالک میں پھیلے اپنے ہم مذہب لوگوں کا متحرک کرنا شروع کر دیا۔ایسا لگتا ہے کہ  ''انقلاب پسندوں" کے توسیع پسندانہ  عزائم مسلم دنیا کوآپس میں  لڑانے کی مغربی خواہش کو  حقیقت میں بدل دے گی۔موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ  شام  میں براہ راست فوجی  مداخلت،عراق اور لبنان میں  اپنے حمائتیوں کی کھلی پشت پناہی کے بعد  اب ایران کی نظریں یمن پر لگی ہیں۔ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای قریبی ساتھی اور با اثر رکن پارلیمنٹ  علی رضا ذکانی کا کہنا ہے کہ  تین عرب ممالک شام، عراق اور لبنان کے بعد اب یمن بھی ہماری جیب میں آ گیا ہے۔اب ہماری نظریں سعودیہ عرب پر ہیں۔ اس طرح کی انتہا پسندانہ سوچ کا نتیجہ ہے کہ  خطے میں جنگ کے بادل منڈلارہے  ہیں۔ سب سے افسوس ناک پہلو  یہ ہے کہ یہاں مسلمان ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔
یہا ں ایک اور  بات کا ذکر کرتا  چلوں کہ مختلف مذہب ،زبان ،سوچ  اور  تہذیب و تمدن کےحامل دو   ملک بھارت اور ایران میں  ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں  ایک عرصے سے اپنی سرحدوں اور اثر و رسوخ میں اضافے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔اسکی خاطرانہوں نے  خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خطر ناک بنا دیا ہے  اس کھیل  میں انہیں میں مغربی قوتوں کی  آشیرباد  حاصل ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک میں مداخلت، سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ اور مخصوص گروہوں کی پشت پناہی کسی سے ڈھکی چھپی  بات نہیں ہے۔عالمی طاقتیں بھارت کو جنوبی ایشیا اور ایران کو مشرق وسطٰی میں طاقتور دیکھنا چاہتی ہیں۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ مخاصمت  بیرونی مداخلت کے ساتھ ساتھ مقامی علماء کے غیرسنجیدہ رویے  کا نتیجہ ہے۔ اول توموجودہ حالات کے پیش نظر آپس کے  اختلافات کو ختم  کرنے کی کوشش کی جائے اگر ایسا ممکن  نہیں تو کم سے کم برداشت کا ماحول پیدا کیا جائےاور ایک دوسرے کے مقدسات اور مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔ تاکہ دلوں میں پلنے والی فرقہ وارانہ نفرتیں ختم  نہیں تو کم ضرور سکیں۔
نئے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بحرین، عراق ،اورشام کے بعد اب یمن میں  باغیوں کی بڑھتی سرگرمیاں ایران کی کھلی  حمایت اور  امریکی دوغلے پن کے  کے بغیر ناممکن تھیں۔ اس لئے انہوں نے امریکہ کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیا۔ ترکی، اردن،قطر،کویت،مراکش،سوڈان،متحدہ عرب امارات کے طیارے اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایران اور روس کے سوا تمام اہم ممالک نے اس آپریشن کی حمایت کی ہے۔یہاں ایران کے کردار پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اگر ایران واقعی  امریکی عزائم کی راہ میں حائل ہونا چاہتا ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ ظاہر کرتا ہے  تو اسے مسلم ممالک کو مضبوط کرنا چاہیئے تھا  مگر موجودہ منظر نامہ اس کے بر عکس نظر آ رہا ہے۔
سعودی عرب کی پوزیشن 80 ءکی دہائی کے پاکستان سے کچھ مختلف نہیں ہے جب روس کے افغانستان پر حملہ کےبعد پاکستان یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ وہ کرے تو کیا کرے؟آگے بڑھ کر روس کا راستہ روکے یا آنکھیں بند کر کے بلی کا انتظار کرے۔ اس وقت کی قیادت نے حالات کے پیش نظر جو فیصلہ کیا اس پر بحث کا یہ وقت نہیں ہے۔ مگر جو لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس جنگ میں حصہ نہیں بننا چاہیئے تھا ان سے سوال ہے کہ کیا پھر روس صرف افغانستان تک محدود رہتا؟ اگر نہیں تو پاکستان کا آج کیا حال ہوتا۔ اور جو لوگ پاکستان کی افغان جنگ میں شمولیت کو درست سمجھتے ہیں وہ بھی آج ملک کے حالات دیکھ لیں۔ آج امریکہ کی وجہ سے ملک میں بد امنی اور دہشت گردی ہے  تب یہی حالات روس کی وجہ سے پیدا ہوتے۔  دونوں  صورتوں میں یہی کچھ ہونا تھا کیونکہ پاکستان شروع سے عالمی طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ لہٰذا آج  کے حالات میں جو بھی فیصلہ کیا جائے سوچ سمجھ کر اور ملکی اور امت مسلمہ کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔