منگل, دسمبر 16, 2014

کھیل میں حکومتوں کی مداخلت اور قومی ہاکی ٹیم کا قصہ۔۔

0 comments

                                                 کھیل کسی قوم کی تہذیب اور ثقافت کا لازمی جز ہوتے ہیں ۔ جدید دنیا میں کھلاڑی اپنے ملک اور قوم  کا چہرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے اپنی تہذیب ثقافت اور  سوفٹ امیج کے اظہار کے لیے ہر ملک  اپنی قومی علامات کا تعین کرتا ہے  مثلاً قومی کھیل ، قومی پرندہ قومی پھل پھول  اور پکوان  وغیرہ۔  پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے۔ پاکستان چار بار ورلڈ چمپیئن رہ چکا ہے۔ اسکے علاوہ قومی ٹیم بے شمار  میڈلز ٹرافیاں  اور نقد انعامات جیت چکی ہے۔پچھلے کئی سال سے  قومی ہاکی ٹیم زوال کر شکار ہے۔اسکی وجوہات کی تفصیل  انشا اللہ پھر کسی نشست میں بیان کروں گا۔فی الحال میرا موضوع قومی ہاکی ٹیم کا دورہ ہندوستان ہے۔ جہاں ٹیم نے چمپیئنز ٹرافی  میں شرکت کی۔قومی ہاکی ٹیم نامساعد حالات اور حکومتی بے توجہی کے باوجود انڈیا میں منعقدہ چمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ گئی۔ مقابلہ تو دل نا تواں نے خوب کرنا تھا مگر انڈیا کی روایتی دشمنی اور ایف آئی ایچ کاجانبدارانہ روّیہ آڑے آ گیا۔  جس کے باعث ہماری پوری ٹیم کو "لائن حاضر" ہونا پڑا۔

قصہ  کچھ یوں ہے کہ سیمی فائنل میں انڈیا کا جوڑ پاکستان کے ساتھ پڑا انہیں ہوم گراونڈ  کا فائدہ ہونے کے  ساتھ کراوڈ کی بھر پورحمایت حاصل تھی  ہندوستانی  ٹیم جس اعتماد سے میدان میں اتری اسی اعتماد سے کھیلی بھی۔ مگر روایتی حریف سے مقابلے میں پاکستانی شاہینوں کی پرواز بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ کھیل کے آخری لمحات  تھے مقابلہ تین تین گول سے برابر تھا    دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں کھیل ختم ہونے سے دو منٹ قبل پاکستانی ٹیم نے چوتھا گول کر کے  جیت کا رخ اپنی جانب موڑ لیا۔ مقررہ   وقت ختم ہوا تو پاکستانی ٹیم نے جیت کا جشن منایا گو کہ کچھ کھلاڑی زیادہ جذباتی ہو گئے تھے مگر انہوں نےکوئی  غیر اخلاقی حرکت نہیں کی۔انڈین ٹیم ، انڈین ہاکی فیڈریشن اور میڈیا سے پاکستانی جیت اور پھر جشن ہضم نہ ہوا۔ اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انہوں نے انٹر نیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) سے اس کی شکایت کر دی جس کا جائزہ لے کر  انڈیا کا اعتراض مسترد کردیاگیا ۔ مگر انڈین مینجمنٹ  اور میڈیا نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے آئی ایچ ایف کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہم پاکستانی کھلاڑی فائنل میچ کھیلنے سے محروم کر دیے گئے۔ جس کا باقی ٹیم پر برا اثر پڑا۔ اس  ظالمانہ  فیصلے سے کھلاڑیوں  کا مورال ڈاون ہوا  اور انجانے خوف نے انکی کارکردگی کو زنجیر ڈال کر محدود کر دیا۔ جس کا نتیجہ قومی ٹیم کی جرمنی سے ہار کی صورت میں نکلا۔

یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے فیصلے ہو چکے ہیں۔ افسوس کہ کھیل میں سیاسی دخل اندازی نےاس کا حسن بگاڑ دیا ہے۔ 2011 کے ورلڈ کپ سے قبل سلمان بٹ، آصف اور عامر کو فکسنگ اسکینڈل میں ٹریپ کرنے اور  پابندی لگوانے کے پیچھے بھی انڈین مائنڈ سیٹ کام کر رہا تھا۔ یہ تین کھلاڑی جیسا پرفارم کر رہے تھے اگر یہ ورلڈکپ میں قومی ٹیم کا حصہ ہوتے تو پاکستان یقیناً ورلڈ چمپیئن ہوتا۔  اسکے علاوہ  ورلڈ کپ کے  دوران ایمپائرز کے کئی جانبدار فیصلے پاکستانی ٹیم کی راہ میں مزاہم ہوئے۔ سیمی فائنل میں 13 کے انفرادی اسکور پر ٹنڈولکر واضح   ایل بی ڈبلیوآوٹ ہوئے مگر ڈی آر ایس سسٹم  رزلٹ کو کمپیوٹر کی مدد سے تبدیل کیا گیا اورمڈ وکٹ کے جانب جاتی لائن کو  ہاک آئی HAWK EYE)  )  نےبڑے بھونڈے انداز میں آخری وقت میں لیگ اسٹمپ  کی جانب موڑ دیا  اور  ٹنڈولکر ناٹ آوٹ قرار پائے اور 83 رنز کی انگز کھیل کر ہندوستان کو بڑا مجموعہ  بنانے میں مدد دی۔ کرکٹ کے کرتا دھرتا جو کرنا چاہتے تھے کر چکے تھےمگر دنیا بھر نے جو دیکھنا تھا دیکھ لیا۔ اس پر نہ صرف ساری دنیا میں خاص کر انڈیا میں کئی تجزیہ نگاروں نے سوال اٹھائے اور اپنی تحریروں اور ٹنڈولکر کے آوٹ ہونے کی تصاویر کے ساتھ پوری دنیا پر ہندوستان کی حقیقت کھول دی۔ اس سارے عمل میں آئی سی سی نے انڈیا کی لونڈی کا کردار ادا کیر کے خود کو متنازعہ بنا لیا۔ اگر ٹنڈولکر کو آوٹ قرار دے دیا جاتا تو وہ میچ پاکستان کے لیے آسان ہو جاتا۔

 اب 2015 کا ورلڈکپ قریب ہے تو انڈیا اور اسکے اتحادی پاکستان مخالف لابی نے  سعید اجمل اور حفیظ کے باولنگ ایکشن پر اعتراض کر دیا ہے جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ نادیدہ طاقتیں پاکستان کے عالمی کردار کو دھندلانے اور اور دنیا میں اسے ناکام ریاست ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ آزما سکتی ہیں چاہے وہ کھیل کا میدان ہی کیوں نہ ہو۔

  غیروں کا کیا گلہ کریں یہاں اپنی حکومت  نے قومی کھیل کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ یورپ کے کئی دورے محض وسائل کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کرنا پڑے۔ اس مر تبہ بھی چمپیئن ٹرافی میں شرکت کے لیے جیوسوپر پر اپیل کرنا پڑی   کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک طرف ہاکی  قومی کھیل ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ایسا روّیہ۔ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عمران خان کا شکوہ بجا ہے کہ ہم ےیتیموں کی طرح انڈیا کھیلنے گئے۔  اگر ندیم عمر اور ملک ریاض جیسے لوگ آگے نہ آتے تو قومی ٹیم  انڈیا نہ جا سکتی۔ بہر حال قومی ٹیم نے سولہ سال بعد چاندی کا تمغہ جیت کر ناقدین کے منہ بند کر دیئے۔  حیرت ہے کہ چار ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ہاکی ٹیم سے حکومت کا امتیازی روّیہ  اور دوسری جانب کرکٹ ٹیم کے لیے انعامات اور نوکریوں کے مواقع ۔

یہاں موقع تو نہیں مگر بات کہے بغیر کوئی  چارہ نہیں۔ قومی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے ریکارڈ یافتہ کھلاڑی جنہوں نے 262 رنز کا سب سے بڑا انفرادی سکور بنانے کا ریکارڈ بنا یا۔ انہیں حکومت نے دس ہزار وپے دینے کا اعلان کر کے اس صدی کا سنگین ترین مذاق کیا۔ اس کے علاوہ ورلڈ سنوکر چمپیئن محمد آصف  کوجو انعامات دینے کا اعلان ہوا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ اگر حکومت اور متعلقہ حکام  کا یہی روّیہ رہا تو  پھر کھلاڑی کیسے اور کس کے لیے کھیلیں گے۔۔

غالب  نہ کر حضور  میں تو  بار  بار عرض،
ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر۔۔

0 comments: